Tafseer-e-Baghwi - Al-Israa : 90
مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا
مَا : نہیں لَهُمْ بِهٖ : ان کو اس کا مِنْ عِلْمٍ : کوئی علم وَّلَا : اور نہ لِاٰبَآئِهِمْ : ان کے باپ دادا كَبُرَتْ : بڑی ہے كَلِمَةً : بات تَخْرُجُ : نکلتی ہے مِنْ : سے اَفْوَاهِهِمْ : ان کے منہ (جمع) اِنْ : نہیں يَّقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں اِلَّا : مگر كَذِبًا : جھوٹ
اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوئی کہ کہنے لگے کیا خدا نے آدمی کو پیغمبر کر کے بھیجا ہے ؟
تفسیر 94۔” وما منع الناس ان یومنوا ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ الا ان قالوا “ ان کی جہالت کی وجہ سے ۔ ” ابعث اللہ بشراً رسولا ً “ کفار یہ کہتے تھے کہ ہم آپ پر ایمان نہیں لاتے کیونکہ آپ بشر ہیں تو ہم آسمان سے ان کے لیے رسول بنا کر کسی فرشتہ کو اتار دیتے۔
Top