Baseerat-e-Quran - Al-Israa : 90
اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا
اِذْ : جب اَوَى : پناہ لی الْفِتْيَةُ : جوان (جمع) اِلَى : طرف۔ میں الْكَهْفِ : غار فَقَالُوْا : تو انہوں نے کہا رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اٰتِنَا : ہمیں دے مِنْ لَّدُنْكَ : اپنی طرف سے رَحْمَةً : رحمت وَّهَيِّئْ : اور مہیا کر لَنَا : ہمارے لیے مِنْ اَمْرِنَا : ہمارے کام میں رَشَدًا : درستی
اور جب (ان) لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکی تو ان کو ایمان لانے سے اور کوئی چیزمانع نہیں ہوئی بجز اس کے کہ انہوں نے کہا کہ اللہ نے رسول بنا کر کیا بشر کو بھیجا ہے ؟ ،135۔
135۔ مشرکین اپنی بدعقلی اور کج فہمی سے بشریت اور رسالت میں تنافی سمجھ رہے تھے اور بےیقینی کے لہجہ میں پوچھ رہے تھے کہ کیا اتنا بڑا منصب ایک بشر محض کے سپرد ہوا ہے ؟ جو دیوتاؤں کی پرستش کے لئے بآسانی آمادہ ہوجاتے ہیں۔ انہیں ایک انسان کی تصدیق رسالت کرتے ایسی ہی دشواری نظر آتی ہے ! (آیت) ” اذ جآء ھم الھدی “۔ ھدی سے مراد اس سیاق میں قرآں اور حقانیت قرآن کے دلائل ہیں۔ (آیت) ” قالوا “۔ ان کا یہ کہنا بہ طور استفہام واستفسار کے نہیں، تعجب و انکار کے لہجہ میں تھا۔
Top