Anwar-ul-Bayan - Al-Anbiyaa : 44
بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ
بَلْ : بلکہ مَتَّعْنَا : ہم نے سازوسامان دیا هٰٓؤُلَآءِ : ان کو وَاٰبَآءَهُمْ : اور ان کے باپ دادا حَتّٰى : یہانتک کہ طَالَ : دراز ہوگئی عَلَيْهِمُ : ان پر۔ کی الْعُمُرُ : عمر اَفَلَا يَرَوْنَ : کیا پس وہ نہیں دیکھتے اَنَّا نَاْتِي : کہ ہم آرہے ہیں الْاَرْضَ : زمین نَنْقُصُهَا : اس کو گھٹاتے ہوئے مِنْ : سے اَطْرَافِهَا : اس کے کنارے (جمع) اَفَهُمُ : کیا پھر وہ الْغٰلِبُوْنَ : غالب آنے والے
بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں، کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں ؟ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں ؟
(21:44) بل۔ حرف اضراب ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 2:135) اور یہاں اضراب (رو گردانی کرنا) کے معنی ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف منتقل ہونے کے ہیں۔ یہاں بل کا ماقبل (ذکر رحمن سے روگردانی۔ ان کی سرکشی۔ اور لجاجت فی الکفر) اپنی اصل حالت پر قائم رہنا ہے۔ یہاں ایک مزید وجہ ان کی سرکشی کی بیان کی ہے۔ بلکہ ہم نے ان کے آباء و اجداد کو سامان تعیش دئیے رکھا اور اسی عیش و عشرت میں عرصہ بعید گذر گیا (اور یہ سمجھنے لگے کہ وہ حق پر ہیں اور یہ کہ یہ سارا سامان عیش و آرام ان کو بوجہ استحقاق مل رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ کسی داعی الی الحق کی بات سننے کے لئے تیار نہیں اور اپنی سرکشی اور کفر کی حالت پر مصر ہیں حالانکہ بات یہ نہیں) متعنا۔ ماضی جمع متکلم تمتیع (تفعیل) ہم نے دنیاوی مال ومتاع سے بہرہ مند کیا۔ یہاں ھؤلاء کا اشارہ انہی کفار قریش سے جن سے خطاب ہو رہا تھا قل من یکلؤکم خطاب سے غیبت کی طرف التفات حقارت اور تحقیر کی بنا پر ہوا ہے۔ ننقصھا۔ مضارع جمع متکلم۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (باب نصر) ہم اس کو کم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ جملہ انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا ہم (ان کی) زمین کو اس کی ہر طرف سے (برابر) گھٹاتے چلے جا رہے ہیں : کے متعلق مختلف اقوال ہیں : (1) مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد زمین کی ویرانی اور اہل کی ہلاکت ہے۔ (2) عکرمہ کا قول ہے کہ نقص زمین سے مراد ساکنان زمین کی ہلاکت ہے۔ (3) عطاء کا قول ہے کہ نقص زمین سے مراد علما کی ہلاکت ہے۔ (4) حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت قتادہ اور جماعت اہل تفسیر نے اس کی تشریح کی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اہل کفر کی زمینیں اہل ایمان کے قبضہ میں آرہی ہیں۔ اور اس طرح کافروں کی زمینیں کم ہوتی چلی جارہی ہیں۔ اس تشریح کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ یہ سورة مکی ہے اور جہاد ہجرت کے بعد فرض ہوا تھا تو پھر زمین کفر کے کم کردینے کا کیا معنی ؟ علامہ جلال الدین سیوطی (رح) نے اپنی تفسیر الاتقان میں لکھا ہے کہ :۔ یہ آیات مدنیہ ہیں۔ دوم یہ کہ یہ ایک پیشین گوئی ہے اور جس امر کا ہونا یقینی ہو اس کو ہو ہی گیا کہہ کر تعبیر کرتے ہیں۔ اس تشریح کی تائید اس آیتہ کے آخری الفاظ افہم الغلبون کرتے ہیں (بھلا یہ لوگ غالب آنے والے ہیں ؟ استفہام انکاری ہے۔ بلکہ انجام کا رفتح اور غلبہ صرف خدا اور اس کے رسول ہی کو ہوگا) ۔ اور جگہ ارشاد ہے اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا (13:41)
Top