Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 88
قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
قُلْ : فرما دیں مَنْ : کون بِيَدِهٖ : اس کے ہاتھ میں مَلَكُوْتُ : بادشاہت (اختیار) كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز وَّهُوَ : اور وہ يُجِيْرُ : پناہ دیتا ہے وَلَا يُجَارُ : اور پناہ نہیں دیا جاتا عَلَيْهِ : اس کے خلاف اِنْ : اگر كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : تم جانتے ہو
کہو اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اسکے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟
(23:88) یجیر۔ مضارع واحد مذکر غائب اجارۃ مصدر (باب افعال) ۔ جور مادہ۔ وہ پناہ دیتا ہے۔ لا یجار علیہ۔ مضارع مجہول منفی اجارۃ سے۔ اس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی۔ استجارۃ پناہ طلب کرنا۔ پناہ چاہنا۔ الجار۔ پڑوسی۔ ہمسایہ۔ جو پڑوس میں رہے ہمسایہ کہلاتا ہے یہ اسمائے متضائفہ سے ہے۔ یعنی ان الفاظ سے ہے جو ایک دوسرے کے تقابل سے اپنے معنی دیتے ہیں ۔ جیسا کہ اخ۔ صدیق۔ کہ اخوت و صداقت دونوں جانب سے ہوتی ہے کیونکہ کسی کا پڑوسی ہونا اسی وقت متصور ہوسکتا ہے جب دوسرا بھی اس کا پڑوسی ہو۔ چونکہ شرعا وعقلا ہمسائے کا حق بہت بڑا ہوتا ہے اس رعائت سے اس کو بمعنی حامی و مددگار بھی لیا جاتا ہے۔ مثلاً وانی جار لکم (8: 48) میں تمہارا حامی و مددگار ہوں۔ جار عن الطریق۔ وہ راستہ سے ہٹ گیا۔ جار علیہ اس نے ظلم کیا۔ اسی سے جور ظلم کو کہتے ہیں۔
Top