بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Ashraf-ul-Hawashi - Al-Ahzaab : 1
فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ
فَلَمَّا : پھر جب جَآءَهُمُ : آیا ان کے پاس الْحَقُّ : حق مِنْ عِنْدِنَا : ہماری طرف سے قَالُوْا : کہنے لگے لَوْلَآ اُوْتِيَ : کیوں نہ دیا گیا مِثْلَ : جیسا مَآ اُوْتِيَ : جو دیا گیا مُوْسٰي : موسیٰ اَوَ : کیا لَمْ يَكْفُرُوْا : نہیں انکار کیا انہوں نے بِمَآ اُوْتِيَ : اس کا جو دیا گیا مُوْسٰي : موسیٰ مِنْ قَبْلُ : اس سے قبل قَالُوْا : انہوں نے کہا سِحْرٰنِ : وہ دونوں جادو تَظٰهَرَا : ایک دوسرے کے پشت پناہ وَقَالُوْٓا : اور انہوں نے کہا اِنَّا : ہم بیشک بِكُلٍّ : ہر ایک کا كٰفِرُوْنَ : انکار کرنے والے
اے پیغمبر اللہ سے ڈرتا رہ اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مان بیشک اللہ (سب کچھ) جانتا ہے حکمت والاف 2
2 اس آیت میں اعلیٰ سے ادنیٰ پر تنبیہ فرمائی ہے یعنی جب پیغمبر ﷺ کو اللہ سے ڈرتے رہنے اور کافروں اور منافقوں کی بات ماننے کی تاکید کی ہے تو دوسرے لوگوں کو بطریق اولیٰ یہ حکم ہے۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” کافر چاہتے اپنی طرف نرم کرنا اور منافق چاہتے تھے اپنی چال سکھانی اور پیغمبر ﷺ کو اللہ پر بھروسہ ہے اس سے دانا کون ہے “ ؟ ( موضح)
Top