Tafseer-e-Baghwi - Al-Muminoon : 98
وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ
وَاَعُوْذُ : اور میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری رَبِّ : اے میری رب اَنْ يَّحْضُرُوْنِ : کہ وہ آئیں میرے پاس
اور اے پروردگار ! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں
98۔ واعوذبک رب ان یحضرون، اور میں اپنے امور میں ان سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ یہاں (حضور) کا لفظ ذکر کیا مطلب یہ ہے کہ شیطان جب بھی حاضر ہوتا ہے تو وہ وسوسہ ڈالتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے متعلق خبر دی جو بعث کے منکر ہیں وہ موت کے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کا سوال کریں گے۔
Top