Tafseer-e-Usmani - Al-Muminoon : 56
وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ
وَاَعُوْذُ : اور میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری رَبِّ : اے میری رب اَنْ يَّحْضُرُوْنِ : کہ وہ آئیں میرے پاس
سو دوڑ دوڑ کر پہنچا رہے ہیں ہم ان کو بھلائیاں6  یہ بات نہیں وہ سمجھتے نہیں7
6  یہ ہی خیال ان کا تھا۔ چناچہ کہتے تھے (نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا ۙ وَّمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ ) 34 ۔ سبأ :35) یعنی ہم اگر خدا کے ہاں مردود و مبغوض ہوتے تو یہ مال و دولت اور اولاد وغیرہ کی بہتات کیوں ہوتی۔ 7 یعنی سمجھتے نہیں کہ مال و اولاد کی یہ افراط ان کی فضیلت و کرامت کی وجہ سے نہیں امہال و استدراج کی بناء پر ہے۔ جتنی ڈھیل دی جا رہی ہے اسی قدر ان کی شقاوت کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ (سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :182)
Top