Tafseer-e-Baghwi - Al-Baqara : 268
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ
تِلْكَ : یہ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ : آخرت کا گھر نَجْعَلُهَا : ہم کرتے ہیں اسے لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے جو لَا يُرِيْدُوْنَ : وہ نہیں چاہتے عُلُوًّا : برتری فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَ : اور لَا فَسَادًا : نہ فساد وَالْعَاقِبَةُ : اور انجام (نیک) لِلْمُتَّقِيْنَ : اور انجام (نیک)
وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اسے ان لوگوں کے لئے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے اور انجام (نیک) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے
تفسیر۔ 83۔ تلک الدار الاخرۃ ، نجعلھا لایریدون علوا فی الارض، ، مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ یعنی جو لوگ ایمان سے غرور کی وجہ سے تکبر نہیں کرتے۔ عطاء کا قول ہے کہ لوگوں پر جبرا اور چیرہ دستی نہیں کرتے، اور ان کو حقیر نہیں جانتے ۔ احسن کا قول ہے کہ حاکموں اور سرداروں کے پاس عزت مرتبہ کے طلب گار نہیں ہوتے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا اس آیت کا نزول ان حاکموں کے متعلق ہوا جو باوجود قدرت کے تواضع کرتے ہیں۔ آپ کا مقصد یہ ہے کہ جو حاکم اور صاھب قدرت متواضع ہوتا ہے وہ ملک میں خود اونجا اٹھنے کا خواستگار نہیں ہوتا۔ ولافسادا، کلبی نے کہا کہ فساد سے مراد اللہ کے سو ادوسروں کی عبادت کی طرف بلانا ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ ناحق لوگوں کا مال لینا مراد ہے۔ ابن جریج اور مقاتل نے کہا کہ گناہ کرنا مراد ہے۔ والعاقبۃ للمتقین، ، عاقبت سے مراد محمود ہے جو اس سے ڈرا مطلب اچھا انجام جنت ہے جو شخص اللہ کے اوامر اور نواہی پر عمل کرے اور گناہوں سے بچے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد متقین کے لیے جنت ہے۔
Top