Tafseer-e-Jalalain - Aal-i-Imraan : 93
كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ
كَمَثَلِ : حال جیسا الَّذِيْنَ : جو لوگ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل قَرِيْبًا : قریبی زمانہ ذَاقُوْا : انہوں نے چکھ لیا وَبَالَ اَمْرِهِمْ ۚ : اپنے کام کا وبال وَلَهُمْ : اور ان کے لئے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب دردناک
(ان کا وہی حال ہوگا) جیسے ان لوگوں کا معاملہ ہوا جو ان سے پہلے قریب ہی اپنے کیے کی سزا چکھ چکے ہیں اور ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہے۔
آیت 15{ کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِہِمْ } ”ان کا وہی حال ہوگا جیسے ان لوگوں کا معاملہ ہوا جو ان سے پہلے قریب ہی اپنے کیے کی سزا چکھ چکے ہیں۔“ اس سے یہودی قبیلہ بنو قینقاع کے لوگ مراد ہیں جنہیں 2 ہجری میں غزوئہ بدر کے بعد مدینہ سے جلاوطن کیا گیا تھا ‘ جبکہ بنونضیر کی جلاوطنی ‘ جس کا ذکر ہم اس سورت میں پڑھ رہے ہیں ‘ 4 ہجری کو عمل میں آئی۔ اسی طرح 5 ہجری میں غزوئہ احزاب کے بعد یہود مدینہ کا تیسرا اور آخری قبیلہ بنوقریظہ بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ { وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ } ”اور ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہے۔“
Top