Bayan-ul-Quran - Ibrahim : 4
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ
وَ : اور لَقَدْاَرْسَلْنَا : البتہ ہم نے بھیجا مُوْسٰى : موسیٰ بِاٰيٰتِنَآ : اپنی نشانیوں کے ساتھ اَنْ : کہ اَخْرِجْ : تو نکال قَوْمَكَ : اپنی قوم مِنَ الظُّلُمٰتِ : اندھیروں سے اِلَى النُّوْرِ : نور کی طرف وَذَكِّرْهُمْ : اور یاد دلا انہیں بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ : اللہ کے دن اِنَّ : بیشک فِيْ : میں ذٰلِكَ : اس لَاٰيٰتٍ : البتہ نشانیاں لِّكُلِّ صَبَّارٍ : ہر صبر کرنیوالے کے لیے شَكُوْرٍ : شکر کرنے والے
اور ہم نے تمام (پہلے) پیغمبروں کو (بھی) ان ہی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا تاکہ ان سے (احکام الہیٰہ کو) بیان کریں پھر جس کو اللہ تعالیٰ چاہیں گمراہ کردیتے ہیں جس کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں اور وہی (سب امور) پر غالب ہے اور حکمت والا ہے (ف 6) (4)
6۔ اوپر حضور ﷺ کی رسالت کا ذکر تھا آگے اس کی تائید کے لیے دوسرے رسل کا ذکر ہے جس سے یہ معلوم ہوجائے کہ رسالت کوئی انوکھی چیز نہیں کہ اس کا انکار کیا جائے پہلے بھی رسول ہوتے آئے ہیں۔
Top