Ashraf-ul-Hawashi - At-Tawba : 17
اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ
اِنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ : بیشک مال تمہارے وَاَوْلَادُكُمْ : اور اولاد تمہاری فِتْنَةٌ : آزمائش ہیں وَاللّٰهُ : اور اللہ عِنْدَهٗٓ : اس کے پاس اَجْرٌ عَظِيْمٌ : اجرعظیم ہے
تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں ، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔
انما ........................ فتنة (46 : 51) ” تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں “۔ تنبیہ یہ ہے کہ بعض اوقات مال اور اولاد دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ بات انسانی زندگی کی ایک نہایت ہی بڑی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ زندگی کے اندر بعض اوقات روابط اور تعلقات اس قدر متنوع اور مختلف سمتوں سے دامن کش ہوتے ہیں کہ انسان آزمائش میں پڑجاتا ہے۔ ازواج اور اولاد کبھی انسان کو ذکر الٰہی سے غافل کردیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ایمان کے مشکل ترین تقاضے پورے کرنے کی راہ میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مثلاً فریضہ جہاد فی سبیل اللہ میں دنیاوی نقصانات اٹھانے پڑتے ہی۔ بڑی بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ انسان اور اس کی اولاد اور اہل خاندان تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض اوقات انسان اپنی ذات پر سختی برداشت کرسکتا ہے لیکن بیوی بچوں پر سختیاں اور تشدد برداشت نہیں کرسکتا۔ یوں انسان جدوجہد اور جہاد میں بزدلی اختیار کرتا ہے کہ بچوں اور بیوی کو کے آرام اور آسائشوں میں خلل نہ ہو۔ اور وہ اس کے دشمن نہ ہوجائیں اور یوں دراصل وہ دشمن ہوجاتے ہیں اور اسے راہ راست سے روک دیتے ہیں۔ یوں ایک مومن اعلیٰ مقاصد اور بلند مراتب کے حصول سے نیچے رہ جاتا ہے۔ بعض اوقات تو ازواج واولاد ٹھیک کھڑے ہوکر راہ روک دیتے ہیں اور مومن اپنے فرائض سرانجام دینے سے رک جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ مومن کے نظریاتی مخالف ہوتے ہیں۔ اور مومن کے لئے ان سے صاف صاف قطع تعلق بھی ممکن نہیں ہوتا۔ غرض یہ اور بیشمار دوسری صورتیں اس دشمنی اور آزمائش کی پیش آسکتی ہیں۔ اس لئے اللہ نے اولاد ، بیوی اور مال کے فتنوں اور آزمائشوں کے بارے میں یہاں سختی کے ساتھ متنبہ کیا کہ ان کے بارے میں مومن کے دل میں ایک احتیاط اور ایک شعور موجود ہو اور اس کا دل بیدار ہو اور برداشت کرنے کی تیاری میں اگر کوئی دباﺅ آئے تو وہ مقابلہ کرے۔ اس کے بعد مال اور اولاد کی دشمنی کو ایک دوسرے رنگ میں تکرار کرکے پیش کیا کہ یہ فتنہ بھی ہوتے ہیں۔ لفظ فتنہ کے دو معنی ہوتے ہیں : ایک یہ کہ اللہ تمہیں مال اور اولاد کے ذریعہ آزماتا ہے ، لہٰذا چوکنے رہو ، احتیاط کرو کہ تم اس آزمائش میں پاس ہوجاﺅ۔ اور خلوص اور تجرد اختیار کرو۔ فتنے کے معنی یہ ہیں کہ سنار سونے کو آگ میں ڈال کر پگھلاتا ہے تاکہ اس سے کھوٹ نکال دے۔ یہ عمل فتنہ کہلاتا ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ مال واولاد خود فتنہ ہیں اور یہ شیطان کے ہتھیار ہیں۔ یہ تمہیں دین کی مخالفت اور معصیت میں ڈالتے ہیں۔ لہٰذا اس معنی میں دشمن ہیں ان سے بچو ، کہ وہ تمہیں نقصان نہ پہنچا دیں۔ یہ دونوں معنی قریب قریب ہیں۔ امام احمد نے روایت کی ہے۔ عبداللہ ابن بریدہ سے ، انہوں نے ابوبردہ سے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے حسن اور حسین آئے۔ انہوں نے سرخ قمیض پہن رکھے تھے۔ یہ چلتے تھے اور گرتے پڑتے آرہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ منبر سے اترے۔ ان کو اٹھایا۔ اپنے سامنے بٹھایا۔ اور پھر فرمایا : ” اللہ اور اللہ کے رسول نے سچ کہا کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے آزمائش ہے۔ میں نے دونوں بچوں کو دیکھا کہ چل رہے ہیں اور گرتے پڑتے آرہے ہیں۔ مجھ سے نہ رہا گیا ، میں نے خطبہ چھوڑ کر ان کو اٹھالیا “۔ اصل سنت نے واقد سے اسے روایت کیا ہے۔ یہ ہیں رسول اور یہ ہیں آپ کے نواسے۔ لہٰذا اولاد کا معاملہ بہت ہی نازک اور اہم ہے اور خطرہ ہے اور ان کے بارے میں تنبیہ ضروری تھی۔ اللہ نے اسے ضروری سمجھا اور یہ تنبیہ کی۔ اللہ تعالیٰ ، جو لوگوں کا خالق ہے ، ان کے جذبات اور شعور کا بھی خالق ہے۔ اور یہ جذبات اور میلانات اولاد کے بارے میں اسی نے حضرت انسان میں رکھے ہیں۔ اللہ نے ضروری سمجھا کہ لوگ افراط وتفریط سے بچیں اور کہیں ان کی اولاد ان کی ہلاکت کا باعث نہ بن جائے۔ اللہ جانتا تھا کہ یہ محبتیں بعض اوقات دشمن سے بھی زیادہ نقصان دے سکتی ہیں۔ اور بعض اوقات یہ ایسی سازش کرسکتی ہیں جس طرح ایک گہرا دشمن چال چلتا ہے۔ انسان کو مال واولاد کے فتنے سے ڈراکر ، اور ان کی جانب سے نہایت ہی گہری دشمنی سے خبردار کرکے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ فتنہ ہیں۔ واللہ .................... عظیم (46 : 51) ” اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے “۔
Top