Tafseer-e-Saadi - Al-Muminoon : 54
نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ
نُسَارِعُ : ہم جلدی کر رہے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے فِي الْخَيْرٰتِ : بھلائی میں بَلْ : بلکہ لَّا يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور (سمجھ) نہیں رکھتے
ان منکروں کو ان کی غفلت و سرشاری میں پڑا رہنے دے ایک مقررہ وقت تک
اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان کو اپنی مدہوشی میں رہنے دیں یہ ہوش میں آنے والے نہیں : 54۔ زیر نظر آیت سے خطاب نبی اعظم وآخر ﷺ سے ہے اور فرمایا گیا ہے کہ ہدایت کی طرح شقاوت کا مزاج بھی ہمیشہ ایک طرح کا رہتا ہے پس جس طرح پہلے ہوتا رہا ہے اب بھی ہوگا اور جو ماننے والے نہیں وہ کبھی نہیں مانیں گے پس انہیں ان کی حالت میں چھوڑ دو اور اپنا کام کئے جاؤ ، ان کوتاہ اندیش اور خود غرض لوگوں کو کچھ عرصہ اس غفلت میں رہنے دو ۔ آپ ﷺ نے انہیں سمجھانے کا حق ادا کردیا لیکن ان کے عناد اور تعصب میں ذرا بھی فرق نہیں ہوا جب عذاب انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گا تب انکی آنکھیں کھلیں گی اور کھلی کی کھلی ہی رہ جائیں گی (غمرۃ) وہ کثیر پانی جس کی تہ نظر نہ آئے اور بطور تشبیہ اس کا اطلاق جہالت پر بھی ہوتا ہے اور چھا جانے والی غفلت پر بھی اور یہی اس جگہ مراد ہے (غمر) کے اصل معنی ہیں کسی چیز کے اثر کو زائل کردینا اس لئے (غمر) اور (غامر) اس کثیر پانی کو کہتے ہیں جو سیلاب کے اثر کو دور کردیتا ہے اور اسی مناسبت سے فیاض آدمی اور تیز رو گھوڑے کو بھی کہا جاتا ہے ، جو جہالت آدمی پر چھا جائے وہ (غمرۃ) کہلاتی ہے (المفردات) قرآن کریم میں (غمرتھم) اور (غمرات للموت) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں مراد ان سے موت کی سختیاں ہیں جو سارے اعضاء پر چھا جاتی ہیں۔
Top