Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 56
فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ
فَذَرْهُمْ : پس چھوڑ دے انہیں فِيْ غَمْرَتِهِمْ : ان کی غفلت میں حَتّٰى : تک حِيْنٍ : ایک مدت مقررہ
تو انھیں ایک وقت خاص تک ان کی سرمستی (اور غفلت) میں چھوڑ دو
فَذَرْھُمْ فِیْ غَمْرَتِھِمْ حَتّٰی حِیْنٍ ۔ (المومنون : 54) (تو انھیں ایک وقت خاص تک ان کی سرمستی (اور غفلت) میں چھوڑ دو ۔ ) پس منظر آیتِ کریمہ کے یہ چند الفاظ اپنے اندر بڑی معنوی گہرائی رکھتے ہیں۔ بظاہر اس کا مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کو تسلی دیتے ہوئے یہ کہا جارہا ہے کہ آپ انھیں ان کی غفلت میں ڈوبا رہنے دیں اور اس مدت تک ان سے کوئی سروکار نہ رکھیں جب تک یہ خود اپنی غفلت کے نتائج کو محسوس نہیں کرتے۔ لیکن غور وفکر کے بعد بات اس سے زیادہ وسیع معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ گزشتہ چند سال سے آنحضرت ﷺ نے قریش کو سمجھانے کے لیے کس طرح جان ماری ہے اور اس راستے میں کیسی کیسی اذیتیں برداشت کی ہیں۔ آپ نے اپنی شخصیت کا سارا سرمایہ اس جدوجہد میں جھونک دیا ہے۔ ہر طرح کے قرابت کے اثرات اور عقل وفکر کی دعوت کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ استدلال کی حدتک دلیل کا کوئی گوشہ باقی نہیں چھوڑا۔ دعوت کے تمام امکانات کو بروئے کار لانے کے باوجودبھی چند نفوسِ قدسیہ کے سوا قریش کی اکثریت نے اس دعوت کو قبول کرنے کی بجائے اس کا راستہ بند کرنے کا ہر ممکن تہیہ کرلیا۔ اس پس منظر کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ زیادہ دل گرفتہ نہ ہوں ہر قوم کی طرح جن کی طرف اللہ کا نبی مبعوث ہوتا ہے انھیں بھی ایک مہلت عمل دی گئی ہے آپ اس وقت تک تبلیغ و دعوت کا کام ان کے اندر جاری رکھیں لیکن اگر ان کی غفلت کا پردہ ہٹنے نہیں پاتا تو آپ آزردہ نہ ہوں۔ جب مہلت عمل گزر جائے گی تو پھر یہ گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ انھیں بالآخر اپنی سرمستی کا انجام نظر آجائے گا اور ممکن ہے کہ اب ان کا انجام زیادہ دور نہ ہو۔
Top