Tafseer-e-Haqqani - Al-Muminoon : 98
وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ
وَاَعُوْذُ : اور میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری رَبِّ : اے میری رب اَنْ يَّحْضُرُوْنِ : کہ وہ آئیں میرے پاس
اور اے میرے رب ! میں تیری اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ شیاطین میرے پاس آویں بھی
شرب۔ دنیا کا انجام غفلت بیان فرماتا ہے کہ وہ مرنے تک اس میں پڑے رہتے ہیں جب موت آتی ہے اور دوسرے جہاں کا راز کھلتا ہے تو باردگر دنیا میں آنے کی دعا کرتا ہے کہ اگر نیک کام کرے بھلا یہ کب ہوسکتا ہے یہ دعا اس کے منہ کی ان ہونی بات ہے پڑا کہا کرے مرنے کے بعد اس دنیا میں آنے کے لیے قدرتی ایک بڑا پردہ پڑا ہوا ہے پھر اس پردہ کو اٹھا کے کوئی ادھر نہیں آسکتا۔ قیامت تک یہی حال رہتا ہے پھر قیامت میں جب صور پھونکا جائے گا تو نفسی نفسی ہوگی نہ رشتہ داری کا پاس ہوگا نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔ یہ عام حکم ہے حضرات انبیاء صلحاء اس سے مستثنیٰ ہیں۔
Top