Tafseer-e-Usmani - Al-Muminoon : 97
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ
وَقُلْ : اور آپ فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اَعُوْذُ : میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری مِنْ : سے هَمَزٰتِ : وسوسے (جمع) الشَّيٰطِيْنِ : شیطان (جمع)
اور کہہ اے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان کی چھیڑ سے10
10 پہلے شیاطین الانس کے ساتھ برتاؤ کرنے کے طریقہ بتلایا تھا۔ لیکن شیاطین الجن اس طریقہ سے متأثر نہیں ہوسکتے۔ کوئی تدبیر یا نرمی ان کو رام نہیں کرسکتی۔ اس کا علاج صرف استعاذہ ہے یعنی اللہ کی پناہ میں آجانا، تاوہ قادر مطلق ان کی چھیڑخانی اور شر سے محفوظ رکھے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ شیطان کی چھیڑ یہ ہے کہ دین کے سوال و جواب میں بےموقع غصہ چڑھے اور لڑائی ہو پڑے۔ اسی پر فرمایا کہ برے کا جواب دے اس سے بہتر۔
Top