Kashf-ur-Rahman - Al-Muminoon : 76
وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ
وَ : اور لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ : البتہ ہم نے انہیں پکڑا بِالْعَذَابِ : عذاب فَمَا اسْتَكَانُوْا : پھر انہوں نے عاجزی نہ کی لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کے سامنے وَمَا يَتَضَرَّعُوْنَ : اور وہ نہ گڑگڑائے
اور یقینا ً ہم نے ان کو عذاب میں گرفتار کیا مگر اس پر بھی نہ تو انہوں نے اپنے رب کے سامنے فروتنی اختیار کی اور نہ وہ اس کے روبرو گڑگڑائے
(76) اور یقیناً ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا اور عذاب میں گرفتار کیا مگر اس پر بھی نہ تو انہوں نے اپنے پروردگار کے روبرو فروتنی اختیار کی اور نہ اس کے سامنے گڑ گڑائے اور عاجزی کا اظہار کیا یعنی ان کی حالت اور ان کے واقعات شاہد ہیں کہ ہم نے ان اہل مکہ پر مختلف مصائب نازل فرمائے مگر انہوں نے اپنی حالت نہیں بدلی شاید جنگ بدر کی طرف اشارہ ہو یا عام تکالیف قحط اور بیماری وغیرہ کو فرمایا۔ بہرحال ! یہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور اپنی ڈھٹائی پر قائم رہے نہ خدا کے سامنے عاجزی اور فروتنی اختیار کی نہ اس کے سامنے گڑگڑائے جب مصائب کے وقت ان کا یہ حال ہے تو مہربانی کی حالت میں ان کا خود اندازہ کرلو۔ ببیں زبہار من گلستاں مرا۔ حالانکہ بدر میں ان کے بڑے بڑے آدمی قتل کردیئے گئے لیکن جو بچے وہ اپنے حال پر قائم رہے۔
Top