بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Jawahir-ul-Quran - Ibrahim : 1
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ
مَآ اَصَابَ : نہیں پہنچتی مِنْ : سے مُّصِيْبَةٍ : کوئی مصیبت فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ : اور نہ تمہارے نفسوں میں اِلَّا : مگر فِيْ كِتٰبٍ : ایک کتاب میں ہے مِّنْ قَبْلِ : اس سے پہلے اَنْ نَّبْرَاَهَا ۭ : کہ ہم پیدا کریں اس کو اِنَّ ذٰلِكَ : بیشک یہ بات عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر يَسِيْرٌ : بہت آسان ہے
ال رٰ ۔ یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے اتاری تیری طرف کہ تو نکالے لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف2 ان کے رب کے حکم سے راستہ پر اس زبردست خوبیوں والے
2:۔ یہ تمہید مع ترغیب ہے اس میں قرآن کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ یعنی یہ قرآن ہم نے آپ پر اس لیے نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کو شرک و ضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید اور ہدایت کی روشنی سے ہمکنار کریں۔ ” لِتُخْرِجَ النَّاسَ “ کے بعد ” ببیان الوقائع “ مقدر ہوگا۔ یعنی دلائل بیان ہوچکے، تنبیہات کا ذکر ہوچکا اور شبہات کا ازالہ بھی ہوچکا اب آپ ان کے سامنے وقائع بیان کریں تاکہ اس طرح ہی وہ ظلمات سے نور کی طرف آجائیں۔ کیونکہ اس کے بعد اسی رکوع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ وَ ذَکِّرْھُمْ بِاَیَّامِ اللہِ “ یعنی اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالو اور ان کو وقائع امم ماضیہ یاد دلاؤ تاکہ وہ ان سے عبرت حاصل کریں۔ اس لیے اس قرینے سے یہ ان ” ببیان الوقائع “ یا ” بتذکیر ایام اللہ “ مقدر ہوگا۔ ” بِاِذْنِہٖ “ یعنی اللہ کی توفیق اور اس کی مہربانی سے ” ای بتوفیقہ ایاھم و لطفہ بھم “ (قرطبی ج 9 ص 338) ۔ ” اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ “ یہ ” النور “ سے باعادہ جار بدل ہے۔
Top