Madarik-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 4
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ جو هُمْ : وہ لِلزَّكٰوةِ : زکوۃ (کو) فٰعِلُوْنَ : ادا کرنے والے
اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں
4: وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوۃِ فَاعِلُوْنَ (اور وہ لوگ جو زکوٰۃ کو ادا کرنیوالے ہیں) فاعلون کا معنی ادا کرنے والے ہیں۔ فاعلون ؔ کے استعمال سے ان کی مداومت کو ثابت کیا۔ مؤدون کا لفظ یہ مداومت نہیں رکھتا۔ ایک قول الزکوٰۃ کا لفظ مشترک ہے اس کا اطلاق اعیان پر ہوتا ہے تو اس سے وہ مالی مقدار مراد لی جائے گی جسے زکوٰۃدینے والا نصاب میں سے فقیر کے سپرد کرتا ہے اور اگر اسکا اطلاق معنی پر ہو تو پھر مراد اس سے تزکیہ کا فعل جو پاکیزگی والا انجام دیتا ہے۔ مفسر کی رائے : یہاں یہی مراد ہے تزکیہ کرنے والوں کو فاعلین کہا کیونکہ فعل کا لفظ تمام افعال کو عام ہے جیسے الضرب، القتل وغیرہ۔ تم کہو گے فعل : الضرب والقتل والتزکیۃ۔ البتہ یہ بھی جائز ہے یہاں زکوٰۃ سے زکوٰۃ مال مراد لی جائے۔ اس صورت میں مضاف کو مقدر مانا جائے گا۔ اور وہ اداء کا لفظ ہوگا۔ نحو : لامؔ کو مفعول کے مقدم ہونے کی وجہ سے اور اسم فاعل کے عمل کے ضعیف ہونے کی بناء پر لایا گیا ہے جیسے تم کہو گے : ھذا ضارب لزیدٍ مگر اس طرح نہیں کہتے۔ ضَرَبَ لزید۔
Top