Madarik-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 98
وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ
وَاَعُوْذُ : اور میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری رَبِّ : اے میری رب اَنْ يَّحْضُرُوْنِ : کہ وہ آئیں میرے پاس
اور اے پروردگار ! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں
98: وَاَعُوْذُبِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ (اور اے میرے رب میں شیطان کے اپنے پاس حاضر ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں) نمبر 1۔ شیاطین کے چوکوں سے دعائیہ انداز میں پناہ مانگنے کا حکم دیا پہلے تو وساوس سے پناہ مانگی اور دوسری مرتبہ بالکل ان کے پاس بھٹکنے سے پناہ کا حکم دیا۔ (کیونکہ جب وہ پاس آئیں گے تو ضرور وسوسہ ڈالیں گے) ۔ نمبر 2۔ یہ فقط تلاوت قرآن کے وقت حکم دیا گیا ہے جیسا دوسری آیات : اذا قرأت القرآن فاستعذ باللہ) نمبر 3۔ فزع کے وقت۔
Top