Madarik-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 97
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ
وَقُلْ : اور آپ فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اَعُوْذُ : میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری مِنْ : سے هَمَزٰتِ : وسوسے (جمع) الشَّيٰطِيْنِ : شیطان (جمع)
اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں
97: وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ (اور کہہ دیں اے میرے رب میں شیاطین کے وساوس سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں) یعنی ان کے وساوس اور طعنہ زنیوں سے۔ الھمز چبھونا، الہمزات یہ جمع ہے جو مرۃ اور ایک بار کا معنی دیتی ہے اور اس سے مھماز الرائض۔ سدھارنے والے کا کیلا۔ مطلب یہ ہے شیاطین لوگوں کو گناہ پر ابھارتے ہیں جس طرح سدھار نے والے جانوروں کو چال پر چلانے کیلئے ابھارتے ہیں۔
Top