بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Mafhoom-ul-Quran - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
اللہ کا حکم (عذاب) گویا آہی پہنچا تو اس کے لیے جلدی مت کرو، یہ لوگ جو اللہ کا شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالا تر ہے۔
اللہ کے امر (عذاب) کا پیغام تشریح : یہ آیات کیونکہ آنحضرت ﷺ کے مکہ میں آخری زمانہ اور مدینہ کے شروع میں نازل ہوئیں۔ اور آپ کا زمانہ قیامت کے قریب کا زمانہ شمار ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جو عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں ان کو بتا دو کہ عذاب بس آنے ہی والا ہے۔ اور دوسری بات ان کو یہ بھی سمجھا دو کہ اللہ کی اپنی مرضی ہے جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے چن کر قوم کے لیے رسول بنا بھیجے اس کا چنائو دولت اور مرتبہ پر نہیں بلکہ شرافت اور پرہیزگاری پر ہوتا ہے پھر وہ اپنے اس برگزیدہ بندے پر فرشتے کے ذریعے اپنا پیغام بھیجتا ہے، کیونکہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں، لہٰذا صبر کرو بڑی جلد تمہیں اپنے اعمال کے بدلے میں عذاب مل جائے گا۔ لہٰذا نبی کریم ﷺ کی ہجرت کے 9 یا 10 سال بعد کفار کو معلوم ہوگیا کہ توحید کا پیغام سچ ہے اور کفر کا نام باطل ہے۔ بڑی جلد توحید کے ماننے والے پورے عرب پر چھا گئے اور کفار ذلیل و خوار ہو کر تقریباً ختم ہوگئے۔ یہ سب کچھ اس وحدہٗ لاشریک کی طرف سے ہوتا ہے جس نے زمین آسمان کو اور خود انسان کو بڑی حکمت اور کاریگری سے بنایا ہے۔ اس عظیم المرتبت خالق ومالک کے ساتھ اگر یہ کفار کسی دوسرے کو شریک بناتے ہیں تو اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اللہ کا تو ان کے شرک سے کچھ نہیں بگڑ جاتا وہ تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس لیے عقل کا تقاضہ تو یہی ہے کہ اللہ قوی عزیز سے ہی ڈرا جائے اسی کے سامنے جھکا جائے اور اسی سے دعائیں مانگی جائیں۔ رحمت کی اور بخشش کی، وہی پیدا کرنے والا اور مارنے والا ہے۔ اگلی آیات تخلیق انسان کے بارے میں ہیں۔
Top