Tafseer-e-Majidi - Al-Israa : 108
اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘
اَمْ : یا لَمْ يَعْرِفُوْا : انہوں نے نہیں پہچانا رَسُوْلَهُمْ : اپنے رسول فَهُمْ : تو وہ لَهٗ : اس کے مُنْكِرُوْنَ : منکر ہیں
یا یہ لوگ اپنے رسول کو پہچان نہ سکے اور اس لئے ان کے منکر رہے ؟ ،62۔
62۔ (آیت) ” ام لم یعرفوا رسولھم “۔ یعنی رسول کے صدق سے، دیانت سے امانت سے ناواقف تھے ؟ مطلب یہ ہے کہ ان کفار معاصرین کے انکار کی ممکن وجہ یہ ہے کہ یہ آپ کی سیرت سے، آپ کے اخلاق فاضلہ سے ناواقف ہیں ! ظاہر ہے کہ یہ وجہ بھی نہیں ہوسکتی۔ وہ تو آپ کی پاکیزہ سیرت کے پورے گواہ تھے۔
Top