Bayan-ul-Quran - Al-Israa : 83
وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا
وَيَسْئَلُوْنَكَ : اور آپ سے پوچھتے ہیں عَنِ : سے۔ْمتعلق الرُّوْحِ : روح قُلِ : کہ دیں الرُّوْحُ : روح مِنْ اَمْرِ : حکم سے رَبِّيْ : میرا رب وَمَآ اُوْتِيْتُمْ : اور تمہیں نہیں دیا گیا مِّنَ الْعِلْمِ : علم سے اِلَّا : مگر قَلِيْلًا : تھوڑا سا
اور آدمی کو جب ہم نعمت ادا کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور کروٹ پھیر لیتا ہے اور جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے۔ (ف 11)
11۔ یہ دونوں امر دلیل ہیں اللہ سے بےتعلقی کے، اور یہی بےتعلقی اصل سبب ہے ہدایت کی طرف متوجہ نہ ہونے کا اور حق میں غور نہ کرنے کا، اور اسی سے کفر وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔
Top