Bayan-ul-Quran - Al-Hashr : 6
وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ
وَاِنْ : اور اگر نَّكَثُوْٓا : وہ توڑ دیں اَيْمَانَهُمْ : اپنی قسمیں مِّنْۢ بَعْدِ : کے بعد سے عَهْدِهِمْ : اپنا عہد وَطَعَنُوْا : اور عیب نکالیں فِيْ : میں دِيْنِكُمْ : تمہارا دین فَقَاتِلُوْٓا : تو جنگ کرو اَئِمَّةَ الْكُفْرِ : کفر کے سردار اِنَّهُمْ : بیشک وہ لَآ : نہیں اَيْمَانَ : قسم لَهُمْ : ان کی لَعَلَّهُمْ : شاید وہ يَنْتَهُوْنَ : باز آجائیں
اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلوایا (ف 6) سو تم نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ (ف 7) لیکن اللہ تعالیٰ (کی عادت ہے کہ) اپنے رسولوں کو جس پر چاہے (خاص طور پر) مسلط فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت حاصل ہے۔
6۔ جو مال اہل حرب سے بلا قتال حاصل ہو وہ فئے ہے۔ 7۔ مطلب یہ کہ نہ سفر کی مشقت ہوئی، کیونکہ مدینہ سے دو میل پر ہے، اور نہ قتال کی اور برائے نام جو مقابلہ کیا گیا وہ غیر معتد بہ تھا اس لئے اس میں تمہارا استحقاق تقسیم و تملیک کا نہیں جس طرح غنیمت کے چار خمس میں ہوتا ہے۔
Top