Al-Qurtubi - Al-Qasas : 8
وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
وَمَآ اَفَآءَ اللّٰهُ : اور جو دلوایا اللہ نے عَلٰي رَسُوْلِهٖ : اپنے رسولوں کو مِنْهُمْ : ان سے فَمَآ : تو نہ اَوْجَفْتُمْ : تم نے دوڑائے تھے عَلَيْهِ : ان پر مِنْ خَيْلٍ : گھوڑے وَّلَا رِكَابٍ : اور نہ اونٹ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ : اور لیکن (بلکہ) اللہ يُسَلِّطُ : مسلط فرماتا ہے رُسُلَهٗ : اپنے رسولوں کو عَلٰي : پر مَنْ يَّشَآءُ ۭ : جس پر وہ چاہتا ہے وَاللّٰهُ : اور اللہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر شے پر قَدِيْرٌ : قدرت رکھتا ہے
اور جو (مال) خدا نے اپنے بیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
آیات۔ 6۔ 7 تفسیر ان دو آیات میں دس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ وما افاء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر بنو نضیر کے اموال لٹکا دیے تم نے اس پر گھوڑے نہیں دوڑائے۔ ایجاف سے مر اور رفتار میں تیزی دکھانا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : وجف الفرس جب گھوڑا تیز دوڑا، او جفتہ انا میں نے اسے حرکت دی، میں نے اسے کسی کے پیچھے لگایا ؛ اسی معنی میں تمیم بن مقبل کا قول ہے : اذا الرکب او جفوا جب اونٹ تیزی سے چل پڑے۔ رکاب کا معنی اونٹ ہے اس کی واحد راحلہ ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : تم نے وہاں تک پہنچنے میں کوئی لمبا سفر طے نہیں کیا، نہ وہ ان جنگ اور کسی مشقت کا سامنا کیا۔ یہ بستی مدینہ طیبہ سے دو میل کے فاصلے پر تھی۔ فراء نے کہا : صحابہ کرام پیدل ہی وہاں گئے گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار نہ ہوئے مگر نبی کریم ﷺ اونٹ پر سوار ہوئے تھے یا ایسے دراز گوش پر سوار ہوئے تھے جس کو چھاپ کی رسی ڈالی گئی تھی۔ اس بستی کو صلح کے ذریعے فتح کیا۔ انہیں جلا وطن کیا اور ان کے اموال اپنے قبضہ میں لے لیے۔ مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ سے اس امر کا سوال کیا کہ یہ اموال بھی ان میں تقسیم کردئیے جائیں تو یہ آیت نازل ہوئی وما افاء اللہ علی رسولہ منھم فما او جفتم علیہ اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے امولا نبی کریم ﷺ کے لئے خاص کردئیے جہاں آپ چاہیں انہیں صرف کریں، تو نبی کریم ﷺ نے وہ اموال مہاجرین میں تقسیم کردئیے۔ علامہ واقدی نے کہا : اسے ابن وہب نے امام مالک سے روایت کیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے تین محتاج انصاریوں کے علاوہ کسی انصاری کو کچھ بھی نہ دیا ان میں حضرت ابو دجانہ، حضرت سماک بن خرشہ، حضرت سہل بن حنیف اور حضرت حارچ بن صمہ ؓ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : حضور ﷺ نے صرف دو انصاری صحابہ کو مال عطا کیا حضرت سہل اور حضرت ابودجانہ ؓ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : آپ نے حضرت سعد بن معاز ؓ کو اب ابی حقیق کی تلوار عطا کی۔ اس کی یہ تلوار ایسی تھی جس کا ان کے ہاں بڑا شہرہ تھا۔ بنو نضیر میں سے صرف دو وافراد ایمان لائے سفیان بن عمیر اور سعد بن وہب، دونوں نے اس شرط پر اسلام قبول کیا کہ ان کے اموال انہیں کے پاس رہیں گے تو انہوں نے اپنے اموال کو محفوظ کرلیا۔ صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے روایت منقول ہے کہ بنو نضیر کے اموال وہ اموال تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو عطا کردئیے جن پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے۔ یہ نبی کریم و کے لئے خاص تھے۔ آپ ﷺ ان اموال میں سے اپنے گھر والوں کو سال بھر کا خرچہ عطا کرتے اور ان اموال میں سے جو کچھ بچ رہتا اسے جہاد میں استعمال ہونے والے جانوروں اور اسلحہ میں استعمال کرتے تاکہ جہاد کی تیاری رہے۔ حضرت عباس ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا : میرے اور حضرت علی کے درمیان ان اموال میں فیصلہ کردیجئے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عطا فرمائے۔ حضرت عمر نے کہا : کیا تم دونوں جانتے ہو کہ نبی کریم ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خاص کیا ہے کسی اور فرد کو ان اموال کے لئے خ اس نہیں کیا ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ اللرسول۔ میں نہیں جانتا کہ حضرت عمر ؓ نے اس سے پہلے والی آیت پڑھی ہے یا نہیں پڑھی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے اموال تمہارے درمیان تقسیم کردئیے اللہ کی قسم ! حضور ﷺ نے ان اموال کو تمہارے مقابلہ میں اپنے لئے خاص نہیں کیا اور نہ تمہیں چھوڑ کر خود لیا یہاں تک کہ یہ مال باقی رہا۔ رسول اللہ ﷺ سال بھر کا روزینہ اس سے لیتے باقی ماندہ کو دوسرے اموال جیسا قرار دیتے۔ اسے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب بنو نضیر نے اپنے گھر اور اپنے اموال چھورے تو مسلمانوں نے یہ مطالبہ کردیا کہ مال غنیمت کی طرح ان اموال میں بھی ان کا حصہ معین کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا کہ یہ ال فئی ہے وہاں کچھ لڑائی ہوئی تھی کیونکہ انہیں کچھ عرصہ محاصرہ میں رکھا گیا تھا، انہوں نے قتال کیا اور کچھ لوگ قتل ہوئے پھر جلا وطنی کی شرط پر صلح کرلی حقیقت میں کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی تھی بلکہ جنگ کی شروعات ہوئی تھیں اور محاصرہ ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان اموال کو اپنے رسول کیلئے خاص کردیا تھا۔ مجاہد نے کہا : اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو آگاہ کیا اور یاد دلایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی مدد کی اور بغیر لشکر کشی اور سامان حرب کے انہیں غلبہ عطا کیا۔ ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشاء یعنی دشمنوں میں سے جس پر چاہتا ہے غلبہ عطا فرماتا ہے۔ اس میں اس امر کی وضاحت ہے کہ یہ اموال رسول اللہ ﷺ کے لئے تھے، صحابہ کرام کا ان میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اہل قری سے مراد قریظہ اور بنی نضیر ہیں۔ یہ دونوں قبیلے مدینہ طیبہ اور فدک میں آباد تھے۔ فدک جو مدینہ طیبہ اور خیبر سے تین دن کی مسافت پر واقع تھا۔ عرینہ اور ینبع کی بستیاں بھی نبی کریم ﷺ کے لئے خاص تھیں۔ اس امر کی وضاحت کی کہ اس مال میں جسے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص کیا اس میں رسول اللہ کے علاوہ کے لئے بھی حصے ہیں مقصد بندوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھنا تھا۔ علماء نے اس آیت اور اس سے قبل آیت کے معنی میں گفتگو کی ہے کیا دونوں کا معنی ایک ہے یا مختلف ہے ؟ آیتجو سورة انفال میں ہے تو علماء میں سے ایک جماعت نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری اس کا حکم اس آیت کے حکم سے منسوخ ہے جو سورة انفالیں ہے کہ خمسان افراد کے لئے ہے جن کو ذکر کیا گیا اور باقی چار حصے جہاد کرنیو الوں کے لئے ہے۔ ابتداء اسلام میں غنیمت انہیں اقسام پر تقسیم ہوتی تھی ؛ یہ قول یزید بن رومان، قتادہ اور دوسرے علماء کا ہے ؛ اس کی مثلامام مالک سے مروی ہے۔ ایک قوم نے کہا : حضور ﷺ نے مال صلح کے ساتھ لیا اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تو ایہ ان کے لئے ہوگا جن کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے پہلا مال حضور ﷺ کیلئے خاص ہوگا جب ضرورت ہوتی تو حضور ﷺ اس سے لے لیتے اور باقی ماندہ مسلمانوں کی ضروریات میں خرچ کردیتے۔ معمر نے کہا : پہلا مال نبی کریم ﷺ کے لئے ہے اور دوسرا مال جزیہ اور خراج ہے۔ یہ ان مذکورہ افراد کے لئے جن کا ذکر ہوا ہے۔ تیسرا مال غنیمت ہے جس کا ذکر سورة انفال میں ہے یہ مجاہدین کے لئے ہے۔ ایک قوم نے کہا جن میں امام شافعی بھی ہیں : دونوں آیتوں کا معنی ایک ہی ہے، یعنی کفر کے دو اموال جو جنگ کے بغیر حاصل ہونگے انہیں پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، چار حصے نبی کریم ﷺ کے لئے ہونگے اور پانچواں حصہ پانچ حصوں میں تقسیم ہوگا۔ ایک حصہ رسول اللہ ﷺ کا ہوگا، ایک حصہ قریبی رشتہ داروں کا ہوگا۔ وہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ہیں۔ کیونکہ انہیں زکوٰۃ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ تو مال فئی میں ان کا حق رکھ دیا گیا۔ ایک حصہ یتیموں کے لئے ہوگا، ایک حصہ مسکینوں کے لئے ہوگا، ایک حصہ مسافروں کے لئے ہوگا۔ جہاں تک نبی کریم ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد مال فئی میں سے جو رسول اللہ ﷺ کیلئے حصہ تھا۔ امام شافعی کے قول کے مطابق ان مجاہدین پر صرف کیا جائے گا جو سرحدں کی نگہبانی کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے قائم مقام ہیں۔ دوسرے قول میں ہے : اس مال کو مسلمانوں کی ضروریات کے لئے صرف کیا جائے گا جیسے سرحدوں کی حفاظت، نہریں کھودنا، پل بنانا۔ زیادہ اہم کو اہم پر مقدم رکھا جائے گا۔ یہ طریقہ مال فئی کے 4/5 حصہ میں جاری ہوگا یہ حکم فال فئی کے 4/5 حصہ میں ہے۔ جہاں تک مال فئی میں اور مال غنیمت میں سے پانچویں حصہ کا تعلق ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد مسلمانوں کے مصالح کیلئے استعمال ہوگا۔ اس میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری غنیمتوں میں سے میرے لئے خمس کے سوا کچھ نہیں اور خمس (پانچواں حصہ) بھی تمہاری طرف ہی لوٹا دیا گیا ہے۔ “ اس بارے میں گفتگو سورة انفال میں گزر چکی ہے ؛ اسی طرح جو مال حضور ﷺ اپنے پیچھے چھوڑ جائیں اس میں بھی وراثت جاری نہیں ہوگی بلکہ یہ صدقہ ہے جسے مسلمانوں کے مصالح میں صرف کیا جائے گا جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے “۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فئی کا مال نبی کریم ﷺ کے لئے ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ما افاء اللہ علی رسولہ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو اپنے رسول کی طرف منسوب کیا ہے جبکہ آپ ﷺ مال جمع نہیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ صرف اس قدر مال لیا کرتے تھے جس قدر آپ ﷺ کے گھر والوں کی ضروریات ہوتیں تھیں باقی ماندہ مسلمانوں کی ضروریات کے لئے خرچ کردیتے۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : اس میں کوئی اشکال نہیں کہ تین آیات میں تین معانی ہیں۔ جہاں تک پہلی آیت کا تعلق ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ہے : …………۔ منھم سے مراد اہل کتاب ہیں اس کا عطف سابقہ کلام پر ہے۔ فا اوجفت علیہ من خیل ولا رکاب اس سے اسی چیز کا ارادہ کیا جس طرح ہم نے بیان کیا ہے۔ پس تمہارا اس میں کوئی حق نہیں اسی وجہ سے حضرت عمر ؓ نے کہا : یہ رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص تھا۔ مراد بنی نضیر اور جوان کی مثل ہیں۔ یہ ایک ہی آیت ہے اور معنی بھی ایک ہی ہے۔ دوسری آیت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ………یہ نئی کلام ہے پہلی سے مختلف ہے پہلی آیت میں موجود مستحقین کے علاوہ کے استحقاق کے لئے ہے۔ تیسری آیت سے مراد آیت غنیمت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا معنی اور ہے، ایک اور مستحق کے استحقاق کو ثابت کرتی ہے مگر پہلی اور دوسری آیت دونوں اس میں شریک ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کسی ایسی چیز کو ضمن میں لئے ہوئے ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو عطا فرمائی ہے۔ پہلی آیت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ یہ مال جنگ کے بغیر حاصل ہوا ہے۔ آیت انفال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یہ مال قتال کے ساتھ حاصل ہوا ہے جبکہ تیسری آیت ما فاء اللہ علی رسولہ من اھل القری اس امر سے خالی ہے کہ وہ مال جنگ سے یا بغیر جنگ کے حاصل ہوا ؛ اسی وجہ سے اختلاف پید اہوا۔ ایک جماعت نے کہا : یہ پہلی آیت کے ساتھ لاحق کی جائے گی، یہ سب کا سب صلح کا مال ہوگا یا اس کی مثل مال ہوگا۔ ایک جماعت کا قول ہے : یہ دوسری آیت جو آیت انفال ہے کے ساتھ لاحق کی جائے گی۔ جنہوں نے کہا : یہ آیت آیت انفال کے ساتھ لاحق کی جائے گی انہوں نے اس میں اختلاف کیا ہے کیا یہ منسوخ ہے جس طرح پہلے گزرا ہے یا یہ محخم ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی وہ شہادت جو اس سے پہلے ہے اسے اس کے ساتھ لاحق کرنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں ایک نیا فائدہ اور نیا معنی ہے ؛ جبکہ یہ تو معلوم و مشہور ہے کہ آیت کے حرف جو دوسری آیت سے زائد ہوں اسے نئے فائدہ پر محمول کرنا زیادہ مناسب ہے بنسبت اس کے کہ اسے سابقہ فائدہ پر ہی محمول کیا جائے۔ ابن وہب نے امام مالک سے فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب کی تفسیر میں یہ قول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد بنو نضیر ہیں اس میں خمس لازم نہیں تھا اور نہ ہی ان اموال کو حاصل کرنے کے لئے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے گئے تھے۔ یہ صرف رسول اللہ ﷺ کے لئے تھا رسول اللہ ﷺ نے ان اموال کو مہاجرین اور تین انصاری صحابہ کے درمیان تقسیم فرما دیا جس طرح ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری کی تفسیر میں یہ قول گزر چکا ہے کہ اھل القری سے مراد قریظہ کا قبیلہ ہے۔ قریظہ اور غزوہ خندق کا واقعہ ایک ہی روز ہوا تھا۔ ابن عربی نے کہا : امام مالک کا قول کہ دوسری آیت بنو قریظہ کے بارے میں نازل ہوئی، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا معنی آیت انفال کے معنی کی طرف لوٹ رہا ہے اور اسے نسخ لاحق ہوتا ہے۔ اسے محکم قرار دینے کی بنسبت یہ قول زیادہ قوی ہے۔ ہم کسی قول کو پسند نہیں کرتے مگر اسے ہی جسے ہم نے اس اندازیں تقسیم کیا ہے۔ اور ہم نے وضاحت کردی ہے کہ دوسری آیت کا معنی نیا ہے جس طرح ہم نے اسے پر دلیل قائم کی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ میں کہتا ہوں : انہوں نے جو پسند کیا ہے، وہ حسن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ سورة حشر سورة انفال کے بعد نازل ہوئی یہ امر محال ہے کہ متقدم بعد میں نازل ہونے والی آیت کو منسوخ کردے۔ ابن بی نجیح نے کہا : مال تین قسم کے ہیں۔ مال غنیمت، مال فئی، صدقہ۔ ان میں سے کوئی درہم نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کا محل بیان کردیا ہے۔ یہ زیادہ مناسب ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ وہ اموال جن میں ائمہ اور والیوں کا عمل دخل ہوتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں۔ 1۔ جو مسلمانوں سے اس طریقہ پر لیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو پاک کیا جائے جس طرح صدقات، زکوٰۃ وغیرہ۔ 2۔ مال غنیمت، اس سے مراد وہ مال ہے جو کفار کے اموال میں سے مسلمانوں کے ہاتھ لگتا ہے جیسے جنگ و غلبہ کے ذریعے۔ 3۔ مال فئی : اس سے مراد وہ اموال ہیں جو کفار کے اموال میں سے مسلمانوں کے ہاتھ لگتے ہیں اس میں کوئی جنگ نہیں ہوتی اور نہ گھوڑوں کو دوڑایا جاتا ہے جس طرح صلح، جزیہ، خراج اور کا فرتجار سے ٹیکس، اس کی مثل یہ صورت بھی ہے کہ مشرک بھاگ جائیں اور اپنے اموال چھوڑ جائیں یا ان میں سے کوئی دار السلام میں فوت ہوجائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو۔ جہاں تک صدقہ کا تعلق ہے، اس کا مصرف فقرائ، مساکین اور عاملین ذکوٰۃ ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے۔ جس کی وضاحت سورة برا ئت میں گزر چکی ہے۔ جہاں تک مال غنیمت کا تعلق ہے۔ ابتداء اسلام میں یہ نبی کریم ﷺ کے لئے تھے، جیسے چاہیں اس میں صرف کریں جس طرح سورة انفال میں فرمایا قل الانفال للہ والرسول (آیت :1) پھر اس حکم کو منسوخ کردیا گیا ارشادہ باری تعالیٰ ہے : واعلموا نما غنمتم من شئی (انفال : 41) سورة انفال میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ جہاں تک مال فئی کا تعلق ہے تو اس کی تقسیم اور خمس کی تقسیم برابر ہے۔ امام مالک کے نزدیک دونوں قسم کے اموال کی تقسیم کا انحصار امام کی رائے پر ہے۔ اگر اس کی رائے بنے کہ اسے ان مصائب کے لئے محفوظ کرلے جو مسلمانوں پر واقع ہوتی ہیں تو ایسا کرے اگر وہ دونوں یا ایک کی تقسیم کی رائے بنے کے اسے ان مصائب کے لئے محفوط کرلے جو مسلمانوں پر واقع ہوتی ہے تو ایسا کرے اگر وہ دونوں یا ایک کی تقسیم کی رائے بنے تو لوگوں کے درمیان ایس تقسیم کردے اور عربی اور اس کے مولی میں برابری کرے اور مردو عورت میں سے فقراء سے شروع کرے یہاں تک کہ وہ غنی ہوجائیں۔ مال فئی میں سے رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ داروں کو وہ حصہ دے جو امام کی رائے بنے ان کے لئے کوئی معلوم حد نہیں ان میں سے غنی کو عطا کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ اکثر کی رائے ہے کہ انہیں اس میں حصہ دیا جائے کیونکہ یہ ان کا حق ہے۔ امام مالک نے کہا : فقراء کے علاوہ کسی کو کچھ نہ دیا جائے گا کیونکہ ان کے حق میں یہ صدقہ کا عوض ہے۔ امام شافعی نے کہا : کفار کا جو مال بغیر قتال کے حاصل ہوتا وہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں پچیس حصوں میں تقسیم کردیا جاتا۔ بیس حصے نبی کریم ﷺ کے لئے ہوتے نبی کریم ﷺ اس میں جا چاہتے کرتے اور پانچواں حصہ وہاں صرف کیا جاتا جہاں مال غنیمت کا پانچواں حصہ صرف کیا جاتا۔ ابو جعفر بن دائودی نے کہا : یہ ایسا قول ہے جو پہلے کسی نے نہیں کیا جو کچھ ہم جانتے ہیں بلکہ یہ سارا مال نبی کریم ﷺ کے لئے تھا۔ جس طرح حضرت عمر ؓ سے صحیحین میں ثابت ہے۔ اگر یہ بات ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا فرمان : خالصۃ لک من دون المومنین (الاحزاب :50) اس پر دلالت کرتا کہ کسی غیر کو ہبہ کرنا جائز ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : خالصۃ یوم القیمۃ (الاعراف : 32) اس امر کو جائز کرتا ہے کہ اس میں اور بھی شریک ہیں۔ امام شافعی کا اس بارے میں مفصل گزر چکا ہے۔ الحمد اللہ۔ امام شافعی (رح) کا مذہب یہ ہے کہ فئی کے خمس کا طریقہ وہی ہے جو مال غنیمت کے خمس کا طریقہ ہے اور 4/5 حصہ نبی کریم ﷺ کے لئے ہوگا اور نبی کریم ﷺ کے بعد یہ مسلمانوں کی مصلحتوں کے لئے ہوگا۔ آپ کا ایک اور قول بھی ہے : رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ ان لوگوں کے لئے ہوگا جنہوں نے اپنے آپ کو جہاد کے لئے وقف کر رکھا ہوگا۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ ہمارے علماء نے کہا : جس شہر سے جو مال اکٹھا کیا گیا ہے تمام مال وہاں ہی تقسیم کردیا جائے گا۔ جس شہر سے وہمال جمع کیا گیا ہے وہاں سے اسے منتقل نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ غنی ہوجائیں۔ پھر وہاں سے قریبی کی طرف منتقل کیا جائے، مگر اس صورت میں کہ جس جگہ سے مال وصول کیا گیا ہے اس کی بجائے کسی اور جگہ سخت فاقہ کی نوبت آجائے تو وہاں سے فاقہ والی جگہ کی طرف مال منتقل کردیا جائے گا جس طرح حضرت عمر ؓ نے آفت کے سالوں میں کیا تھا وہ پانچ سال تھے یا چھ سال تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ دو سال تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایک سال تھا جس میں طاعون کے ساتھ بھوک شدید ہوگئی تھی۔ اگر ایسی صورتحال نہ ہو جو ہم نے بیان کی اور امام کی یہ رائے ہو کہ مال فئی کو روک لے تو مسلمانوں پر واقع ہونے والی آفتوں کے لئے اسے روک لیا اور اس مال میں سے نوزائیدہ بچے کو دے اور اس کی تقسیم اس فرد سے شروع کرے جس کا باپ فقیر ہو۔ مال فئی اغنیاء کیلئے بھی حلال ہے۔ اس کی تقسیم میں سب لوگوں کو برابر رکھے مگر ضرورت مندوں کو ترجیح دے، جس قدر کسی کی ضرورت ہو اس کی مناسبت سے زیادہ دے۔ اس مال سے مقروضوں کو دے جس کے ذریعے وہ اپنے قرضے ادا کریں اگر کوئی انسان اہل ہو تو اس میں سے انعام اور عطیہ دے۔ قاضیوں، حکام اور ان کو دے جس میں انسان کی منفعت ہو۔ اس میں سے زیادہ حصہ کے مستحق وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کیلئے زیادہ نفع کا باعث ہوں۔ جس نے مال فئی میں سے کوئی چیز دیوان میں نام لکھوا کر یل تو اس پر لازم ہوگا کہ وہ جہاد میں شریک ہو جب جہاد کیا جائے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ کی لا یکون دولۃ عام قراءت یکون یاء کے ساتھ ہے۔ اور دولۃ نصب کے ساتھ ہے تقدیر کلام یہ ہوگی کی لا یکون الفئی دولۃ۔ ابو جعفر، اعرج اور ہشام نے ابن عامر سے اور ابو حیوہ نے تکون تاء کے ساتھ اور دولۃ کو مرفوع پڑھا ہے۔ یہ کان فوجی سپاہیوں میں سے وظیفہ خواروں کا رجسٹر نامہ ہے۔ دولۃ یہ کان کا اسم ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اور اس کی خبر نہیں ہے۔ یہ جائز ہے کہ یہ ناقصہ ہوا اور اس کی خبر بین الاغنیاء منکم ہوا اور یہ بھی جائز ہے کہ بین الاغنیاء منکم یہ دولۃ کا وصف ہو۔ عام قرأت دول۔ دال کے ضم کے ساتھ ہے۔ سلمی اور ابو حیوہ نے اسے نصب کے ساتھ یعنی دولۃ پڑھا ہے۔ عیسیٰ بن عمر، یونس اور اصمعی نے کہا : یہ دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں۔ ابو عمرو بن علاط نے کہا : دولۃ سے مراد جنگ وغیرہ میں کامیابی کو کہتے ہیں۔ یہ مصدر اور ضمہ کے ساتھ اس شے کا نام ہے جو مال اور لوگوں کے درمیان گردش کناں ہو ؛ ابو عبید نے یہی کہا ہے : الدولۃ ایسی چیز کو کہتے ہیں جو گردش کناں رہتی ہے اور دولۃ مصدر ہے آیت کا معنی یہ ہے مال فئی میں یہ اس لئے کہا تاکہ رؤ ساء اغنیا اور قوی لوگ آپس میں تقسیم نہ کرلیں فقراء اور کمزور لوگوں کو کچھ حصہ نہ ملے کہ دور جاہلیت میں جب کوئی قوم مال غنیمت حاصل کرتی تو انکا رئیس اس کو چوتھا حصہ اپنے لئے لیتا یہی مرباع تھا پھر مرباع کے بعد اپنے لئے جو چاہتا منتخب کرلیا ؛ اس بارے میں شاعر نے کہا : لل لامرباع منھا والصفایا اس مال غنیمت میں سے تیرے لئے مرباع اور چنا ہوا مال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تاکہ اس میں اس طرح کا معاملہ نہ کیا جائے جس طرح کا معاملہ دور جاہلیت میں کیا جاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ مال رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص کردیا تاکہ آپ ﷺ اسے وہاں صرف کردیں جہاں صرف کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ اس میں خمس نہیں جب خمس لازم ہوگا تو وہ تمام مسلمانوں میں تقسیم ہوگا۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ وما اتتکم الرسول فخذوہ، وما نھکم عنہ فانتھوا یعنی مال غنیمت میں سے رسول اللہ جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز کو لینے اور خیانت کرنے سے روکیں اس سے رک جائو ؛ یہ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء کا نقط نظر ہے۔ سدی نے کہا : مال فئی میں سے جو رسول اللہ تمہیں عطا کریں وہ لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس کا مطالبہ نہ کرو۔ اب جریج نے کہا : میری طاعت کے بارے میں جو پیغام لائیں اسے بجا لائو اور میری معصیت سے روکیں تو اس سے رک جائو۔ ماوردی نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا : یہ امر تمام اوامر ونوا ہی پر محمول ہے۔ آپ ﷺ صرف اچھے امر کا حکم دیتے ہیں اور فاسد امر سے روکتے ہیں۔ میں کہتا ہوں : اس سے مراد بھی وہی ہے جو اس سے ماقبل قول کی مراد تھی۔ یہ تین اقوال ہیں۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ مہدوی نے کہا : وما اتتم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا یہ ارشاد اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جس چیز کا حکم دیا وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے امر ہے۔ یہ آیت کریمہ اگرچہ غنائم کے بارے میں ہے پھر بھی نبی کریم ﷺ کے تمام اوامر اور نواہی اس میں داخل ہیں۔ حضرت حکم بن عمیر نے کہا جو صحابی تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ قرآن اس کے لئے سخت مشکل ہے جو اسے ترک کرے اور جو اس کی اتباع کرے اور اس کی طلب کرے اس کیلئے آسان ہے۔ اور میری حدیث بھی مشکل ہے جس نے میری حدیث کو مضبوطی سے پکڑا اور اسے یاد کیا تو وہ قرآن کے ساتھ نجات پا گیا جس نے قرآن اور میری حدیث کے بارے میں سستی کی تو وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہا۔ تمہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ میرے قول کو مضبوطی سے پکڑو، میرے حکم کی مخالفت کرو اور میری سنت کی اتباع کرو۔ جو میرے قول پر راضی ہوا وہ قرآن پر راضی ہوا جس نے میرے قول کا مذاق اڑایا تو اس نے قرآن کا مذاق اڑایا ؛ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما اتتکم الرسول فخذوہ، وما نھکم عنہ فانتھوا۔ مسئلہ نمبر 8 ۔ عبد الرحمن بن زید نے کہا : حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ایک مجرم سے ملے جس کے جسم پر کپڑے تھے حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا : یہ کپڑے اتاردو۔ اس آدمی نے عرض کی : کیا تم اس کی تصدیق کے لئے مجھ پر کتاب اللہ کی کوئی آیت پڑھو گے ؟ فرمایا : ہاں وما اتتکم الرسول فخذوہ ومانھکم عنہ فانتھوا عبد اللہ بن محمد بن ہارون فریابی نے کہا : میں نے امام شافعی (رح) کو یہ کہتے ہوئے سنا : جو چاہو تم مجھ سے سوال کرو میں کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت سے تمہیں آگاہ کروں گا۔ میں نے آپ سے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کے معاملات کو درست کرے، آپ اس مجرم کے بارے میں کہا کہتے ہیں جو بھڑکو قتل کردیتا ہے ؟ حضرت امام شافعی نے جواب دیا : …………… سفیان بن عینیہ، عبد الملک بن عمیر سے وہ ربعی بن حراش وہ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اقتدوا اللذین من بعدی ابی بکر و عمر میرے بعد تم ابوبکر وعمر کی پیروی کرتا۔ سفیان بن عینیہ، مسعر بن کدام سے وہ قیس بن مسلم سے وہ طارق بن شہاب سے وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے بھڑ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ ہمارے علماء نے کہا : یہ بہت اچھا جواب ہے۔ امام شافعی نے حالت احرام میں بھڑ کو قتل مارنے کا فتویٰ دیا اور امام شافعی نے اس امر کی وضاحت کی کہ وہ اس مسئلہ میں حضرت عمر کی اقتداء کر رہے ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر کی اقتدا کا حکم دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس امر کو قبول کرنے کا حکم دیا جو نبی کریم ﷺ ارشاد فرمائیں، تو بھڑ کے قتل کا جواز کتاب و سنت سے مستنبط ہے ؛ یہی معنی عکرمہ کے قول میں گزر چکا ہے جب ان سے امہات اولاد کے بارے میں پوچھا گیا۔ فرمایا : سورة نساء میں انہیں آزاد قرار دیا گیا ہے :ـاللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اطیعوا اللہ واطیعا الرسول واولی الامر منکم (آیت :59) صحیح مسلم اور دوسری کتب میں علقمہ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لعن اللہ الواشمات و المسوشمات والمتنصفات والمتفلحات للحسن المغیرات خلق اللہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگو دنے والوں پر، گود جانے والیوں پر، چہرے سے بال نوچنے والیوں پر، خوبصورت کے لئے دانتوں کو کھلا کرانے والیوں پر اور اللہ تعالیٰ کی پدا کردہ چیزوں میں تبدیلی کرنے والیوں پر۔ بنی اسد کی ایک عورت تک یہ خبر پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا وہ عورت آئی اس نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تو نے اس اس عورت پر لعنت کی ہے۔ فرمایا : جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہے میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جبکہ وہ کتاب اللہ میں ہے ؟ اس عورت نے کہا : وفتین میں جو کچھ ہے میں نے اسے پڑھا ہے میں نے اس میں وہ نہیں پایا جو تم کہتے ہو۔ فرمایا : اگر تو اس کو پڑھتی تو ضرور پاتی، کیا تو نے اسے پڑھا : وما اتتک الرسول فخذوہ اما نھکم عنہ فانتھوا۔ اس نے کہا : کیوں نہیں ؟ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے۔ یہ بحث سورة نساء میں مفصل گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 9 ۔ وما اتتکم الرسول فخذوہ یہاں لفاط ایتاء آیا ہے جس کا معنی عطا کرنا ہے تاہم اس کا معنی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما نھکم عنہ فانتھوا اس کے مقابل نہی کا لفظ ذکر کیا۔ نہی، امر کے سوا کسی کے مقابل نہیں ہوتی۔ جو چیز ہم نے پہلے ذکر کی ہے اس کے فہم پر دلیل حضور ﷺ کا یہ فرمانا ہے : اذا امرتکم بامر فاء تو امنہ ما استعطم واذا نھیتکم عن شئی فاجتنبوا۔ جب میں تمہیں کسی امر کا حکم دوں تو جتنی طاقت رکھو اس کو بجا لائو اور جب میں کسی چیز سے منع کروں تو اس سے اجتناب کرو۔ کلبی نے کہا : یہ آیت مسلمان رؤسا کے بارے میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ جب مشرکوں کے اموال پر غالب آئے تو عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ پسندیدہ چیز اور چوتھا حصہ لے لیں باقی ہمارے لئے چھوڑ دیں، ہم دور جاہلیت میں اس طرح کیا کرتے تھے اور انہوں نے یہ پڑھا : لک المرباع منھا والصفایا آپ ﷺ کے لئے اس میں سے چوتھا حصہ اور منتخب چیز ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ مسئلہ نمبر 01 ۔ واتقوا اللہ اللہ تعالیٰ کے عاب سے بچو جس نے اس کی نافرمانی کی اس کے لئے وہ شدید ہے۔ ایک قول کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی میں اس سے ڈرو تم اسے ضائع نہ کرو۔ ان اللہ شدید العقاب۔ اللہ تعالیٰ ے جس کا حکم دیا اس کے بارے میں وہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
Top