Al-Qurtubi - Al-Waaqia : 9
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔
واسروا قولکم اواجھروا بہ لفظ تو امر کا ہے معنی خبر کا دے رہا ہے یعنی اگر تم حضرت محمد ﷺ کے معاملہ میں اپنی کلام مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو۔ ان ہعلیم بذات الصدور۔ وہ ذات پاک تو دلوں میں موجود خیر و شرکو بھی جانتی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی جو نبی کریم ﷺ کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو حضرت جبرئیل امین نبی کریم ﷺ کو اس بارے میں ب تا دیتے تھے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : آہستہ بات کرو تاکہ (حضرت) محمد ﷺ کا رب سن ہی نہ لے تو یہ آیت نازل ہوئی واسروا قولکم اوجھروابہ حضرت محمد ﷺ کے معاملہ میں آہستہ بات کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، تمام اقوال آہستہ سے کیا کرو یا اعلانیہ کیا کرو۔ انہ علیم بذات الصدور دلوں میں جو کچھ ہے اسے وہ جانتا ہے۔ بذات الصدور سے مراد مافی الصدور ہے جس طرح عورت کا بچہ جب جنین ہو تو اسے ذابطنھا کہتے ہیں۔ پھر فرمایا : الا یعلم من خلق وہ ذات پاک جس نے سر کو پیدا کیا۔ وہ سر کو نہیں جانتی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں نے دل میں راز کو پیدا کیا ہے، کیا بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے میں اسے نہیں جانتا۔ علماء معافی نے کہا، اگر تو چاہے تو من سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات لے لے تو معنی یہ ہوگا کیا خالق اپنی مخلوق کو نہیں جانتا اگر چاہے تو تو اس سے مراد مخلوق لے لے یعنی اسے مفعول بہ بنا لے تو معنی ہوگیا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو نہیں جانتا۔ ضروری ہے کہ خالق اسے جانتا ہو جس کو اس نے پیدا کیا ہے اور اسے جسے پیدا کرے گا۔ ابن مسیب نے کہا : اس اثناء میں کہ ایک آدمی رات کے وقت گھنے درختوں میں بیٹھا ہوا تھا، تیز ہوا چلی تو انسان کے دل میں خیال پیدا ہوا : بتائو کیا اللہ تعالیٰ ان گرنے والے پتوں کو جانتا ہے ؟ تو گھنے درخت جانب سے بڑی عظیم آواز آئی : کیا وہ ذات اپنی مخلوق کو نہیں جاتنی جبکہ وہ لطیف وخبیر ہے۔ استاذ ابو اسحاق اسفرائینی نے کہا، صفات ذات کے اسماء میں سے جو علم کے لئے استعمال ہوتے ہیں ان میں سے ایک علیم ہے اس کا معنی ہے جمع معلومات کو عام ہے۔ ان میں سے ایک خبیر ہے۔ یہ خاص ہے کہ جو چیز وقوع پذیر ہونے والی ہے اس کے واقع ہونے سے پہلے وہ باخبر ہے۔ ان میں سے ایک حکیم ہے۔ اس سے مراد وہ اوصاف کے حقائق کو جانتا ہے۔ ان میں سے ایک شھید ہے۔ یہ اس کے ساتھ خاص ہے کہ وہ غائب و حاضر کو جانتا ہے۔ اس کا معنی ہے اس سے کوئی شی غائب نہیں۔ ان میں سے ایک حافظ ہے۔ یہ اس کے ساتھ خاص ہے کہ وہ بھلوتا نہیں۔ ان میں سے ایک محصی ہے۔ یہ اس کے ساتھ خاص ہے کہ کثرت اسے علم سے غافل نہیں کرتی جس طرح نور کی روشنی، ہوا کا سخت ہونا، پتوں کا گرنا، اس اعتبار سے ہر پتے کی حرکت کے اجزاء کو ب ھی جانتا ہے۔ وہ کیسے نہ جانے جبکہ اسی نے پیدا کیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الایعلم من خلق، وھو اللطیف الخبیر۔
Top