Tadabbur-e-Quran - Al-Mulk : 13
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
اور تم اپنی بات کو چھپا کر کہو یا علانیہ کہو وہ اس کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔
منکروں کو تہدید مومنوں کو تسلی: یہ آیتیں تہدید کے محل میں بھی ہو سکتی ہیں اور تسلی کے محل میں بھی۔ یہاں یہ دونوں ہی کے محل میں ہیں۔ اوپر جن منکرین قیامت کا ذکر ہوا ہے ان کے لیے ان میں تہدید و وعید ہے کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تمہارا رب تمہارے کسی جلی یا خفی سے بے خبر رہ سکتا ہے۔ تم پوشیدہ طور پر اپنی بات کہو یا علانیہ طور پر، وہ سب کو جانتا ہے۔ وہ سینوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تو اس کے سامنے سرّ و علانیہ کا کیا سوال! منکرین قیامت کے بعد غیب میں رہتے خدا سے ڈرنے والوں کا بیان ہوا ہے۔ ان کے لیے اس میں تسلی ہے کہ تمہارے کسی قول و فعل کا غیب یا شہادت میں ہونا خدا کے لیے بالکل یکساں ہے۔ رات کی خلوتوں میں تم اپنے رب سے راز و نیاز کی جو باتیں کرتے ہو وہ بھی اس کے علم میں ہیں اور دن کی جلوتوں میں جو کچھ تم کرتے ہو اور کرو گے وہ بھی اس کے سامنے ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے وہ بھی اس سے مخفی نہیں تو جب اس سے کوئی چیز مخفی نہیں تو اطمینان رکھو کہ تمہاری رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی نیکی رائگاں جانے والی نہیں بلکہ تم انے ہر عمل کا بھرپور صلہ پاؤ گے۔
Top