Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 13
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر۔ وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے
واسروا قولکم او اجھروا بہ . (دونوں امر کے صیغے ہیں) لیکن امر بمعنی خبر ہے یعنی تمہارا چپکے چپکے باتیں کرنا اور بلند آواز سے بولنا دونوں علم الٰہی میں برابر ہیں (اللہ دونوں سے واقف ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں) پہلے کفار کا ذکر غائبانہ تھا۔ اس آیت میں (تفنن کلام کے علاوہ) تہدید پیدا کرنے کیلئے غائب سے حاضر کی طرف کلام کو موڑ کر رُوئے خطاب کافروں کی طرف کیا گیا۔ انہ علیم بذات الصدور . مساوات (سابقہ) کی یہ علّت ہے۔ یعنی اللہ دلوں کی باتوں سے واقف ہے زبان پر لانے سے پہلے ہی وہ ان کو جانتا ہے ‘ نہ اس کو بلند آواز سے بولنے کی ضرورت ‘ نہ آہستہ آہستہ کہنے کی۔
Top