Tafheem-ul-Quran - Al-Mulk : 13
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
تم خواہ چُپکے سے بات کرو یا اُونچی آواز سے (اللہ کے لیے یکساں ہے)، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ 20
سورة الْمُلْک 20 یہ بات تمام انسانوں کو خطاب کر کے فرمائی گئی ہے، خواہ وہ مومن ہوں یا کافر۔ مومن کے لیے اس میں یہ تلقین ہے کہ اسے دنیا میں زندگی بسر کرتے ہوئے ہر وقت یہ احساس اپنے ذہن میں تازہ رکھنا چاہیے کہ اس کے کھلے اور چھپے اقوال و اعمال ہی نہیں، اس کی نیتیں اور اس کے خیالات تک اللہ سے مخفی نہیں ہیں۔ اور کافر کے لیے اس میں تنبیہ ہے کہ وہ اپنی جگہ خدا سے بےخوف ہو کر جو کچھ چاہے کرتا رہے، اس کی کوئی بات اللہ کی گرفت سے چھوٹی نہیں رہ سکتی۔
Top