Al-Qurtubi - Al-Haaqqa : 29
هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ
هَلَكَ : ہلاک ہوگیا عَنِّيْ : مجھ سے سُلْطٰنِيَهْ : سلطان میرا۔ اقتدار میرا۔ غلبہ میرا
(ہاے) میری سلطنت خاک میں مل گئی
ھلک عنی سلطنیہ۔ حضرت ابن عباس نے یہ تفسیر بیان کی ہے : مجھ سے میری محبت ہلاک ہوگئی (1) ، یہ مجاہد، عکرمہ، سعدی اور ضحاک کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : یہاں سلطان سے مراد دنیا میں جو حکومت و بادشاہت تھی۔ یہ آدمی ایسا تھا جس کے ساتھی اطاعت کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خذوہ فغلوہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک لاکھ فرشتے اس کی طرف جلدی کریں گے پھر اس کے ہاتھ کو اس کی گردن کے ساتھ جمع کردیا جائے گا اللہ تعالیٰ کے فرمان فغلوہ کا یہی مفوہم ہے اسے طوق کے ساتھ جکڑ دو ثم الجحیم صلوۃ۔ اسے یوں بنا دو کہ وہ جہنم کی آگ کو تاپتا رہے۔ ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعاً اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہاں کون سا ذراع ہے یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : فرشتوں کے ہاتھ کے برابر ستر ہاتھ (2) نوف نے کہا : ہر ہاتھ ستر باغ کا ہوگا اور ہر باغ تیرے اور مکہ کے درمیان کا فاصلہ ہے (3) اس وقت وہ کوفہ کے علاقہ میں تھا۔ مقاتل نے کہا، اگر اس کا ایک حلقہ پہاڑ کی چٹوی پر رکھا جائے تو وہ یوں پھگل جائے جس طرح سیسہ پگھل جاتا ہے۔ کعب نے کہا، اس زنجیر کا ایک حلقہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں کیا ذرعھا سبعن ذراعاً دنیا کے تمام لوہے کی طرح ہے فاسلکوہ۔ سفیان نے کہا، ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ اسے اس کی دبر میں داخل کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کے منہ سے نکالا جائے گا، یہ مقاتل کا قول ہے معنی ہے پھر اس میں زندیر داخل کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کیی گردن میں وہ زنجیر ڈلای جائے گی پھر اس کے ساتھ اسے کھینچا جائے گا۔ حدیث میں آیا ہے :” وہ اس کی دبر سے داخل کی جائے گی اور اس کے نتھنوں سے نکالی جائے گی۔ “ (4) ایک اور روایت میں ہے :” اس کے منہ سے داخل کی جائے گی اور اس کی دبر سے نکالی جائے گی “ وہ اپنے ساتھیوں کو ندا کرے گا : کیا تم مجھے پہنچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے : نہیں مگر جس ذلت و رسوائی میں تو مبتلا ہے اس کو ہم دیکھ رہے ہیں تو کون ہے وہ اپنے ساتھیوں کو ندا کرے گا : میں فلاں بن فلاں ہوں تم میں سے ہر انسان کے لئے ایسا ہی عذاب ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ تفسیر ترین ہے جو اس آیت کے بارے میں کہی گئی ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : یوم ندعوا کل اناس باماھم (الاسرائ : 71) اس باب میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے جسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے ہم نے اسے سورة الاسراء میں بیان کیا عے، وہاں سے اس میں غور و فکر کرلے۔ انہ کان لایومن باللہ العظیم۔ ولا یحض علی طعام الم کسی ن۔ یہاں طعام، اطعام کے معنی میں ہے جس طرح عطاء کو اعطاء کی جگہ رکھا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا : اکفرا بعد رد الموت عنی و بعد عطائک المائۃ الرتاعا کیا اس کے بعد بھی ناشکیر ہو سکتی ہے کہ تو نے موت کو مجھ سے دور کیا اور تو نے سو اونٹ دیئے جو چرانے والے تھے۔ اس شعر میں بھی عطاء، اعطاء کے معین میں ہے۔ اس امر کو واضح کیا انہیں کھانا کھلانے کے ترک اور بخل کا حکم دینے پر عذاب دیا گیا جس طرح کفر کے سبب سے عذاب دیا گیا۔ حض سے مراد برانگیختہ کرنا ہے۔ لفظ طعام میں صال تو یہ ہے کہ وہ مصدر مقدر کے ساتھ منصوب ہو طعام سے مراد عینی چیز ہے اسے مسکین کی طرف مضاف کیا گیا کیونکہ مسکین اور طعام میں گہرا تعلق ہے جس طرح اطعام عمل کرتا ہے اسی طرح طعام بھی عمل کرتا ہے پس لفظ مسکین کا محل نصب ہے تقدیر کلام یہ ہوگی علی اطعام المطعم المسکین عامل کو حذف کیا اور مصدر کو مفعول کی طرف مضاف کیا گیا۔
Top