Kashf-ur-Rahman - Hud : 70
وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ
وَنُرِيْدُ : اور ہم چاہتے تھے اَنْ : کہ نَّمُنَّ : ہم احسان کریں عَلَي الَّذِيْنَ : ان لوگوں پر جو اسْتُضْعِفُوْا : کمزور کر دئیے گئے تھے فِي الْاَرْضِ : زمین (ملک) میں وَنَجْعَلَهُمْ : اور ہم بنائیں انہیں اَئِمَّةً : پیشوا (جمع) وَّنَجْعَلَهُمُ : اور ہم بنائیں انہیں الْوٰرِثِيْنَ : وارث (جمع)
اور ہم چاہتے تھے ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں ملک (مصر) میں کمزور بنادیا گیا تھا اور ان کو پیشوا بنائیں اور انھیں (فرعون کے تاج و تخت کا) وارث بنائیں
وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَنَجْعَلَھُمْ اَئِمَّۃً وَّنَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَ ۔ وَنُمَکِّنَ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَھَا مٰـنَ وَجُنُوْدَھُمَا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ ۔ (القصص : 5، 6) (اور ہم چاہتے تھے ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں ملک (مصر) میں کمزور بنادیا گیا تھا اور ان کو پیشوا بنائیں اور انھیں (فرعون کے تاج و تخت کا) وارث بنائیں۔ اور ان کو زمین میں اقتدار عطا کریں اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو ان کی جانب سے وہ دکھائیں جن کا وہ اندیشہ رکھتے تھے۔ ) فرعون کے مظالم کے برعکس خدائی فیصلہ گزشتہ آیت میں فرعون کے ظالمانہ عزائم کا ذکر فرما کر یہ دکھایا گیا ہے کہ فرعون تو بنی اسرائیل کو مختلف طریقوں سے بےبس اور کمزور کرکے رکھنا چاہتا تھا۔ اس کی ہر ممکن کوشش یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو کسی طرح ابھرنے کا موقع نہ دیں۔ اس طرح سے آہستہ آہستہ ان کی قومی انفرادیت کو تباہ کردیا جائے اور وہ رفتہ رفتہ قبطی قوم کا ایک حصہ بن جائیں، لیکن پروردگار فرماتا ہے کہ فرعون اور آل فرعون کے مقابلے میں ہم نے یہ ارادہ کرلیا ہے کہ ہم مظلوموں پر احسان کریں۔ ان کو ظلم و ستم کی چکی سے نکال کر پیشوائی کا منصب بخشیں اور ظالموں کو مٹا کر مظلوموں کو وراثت و خلافت عطا کریں۔ نَجْعَلَھُمْ اَئِمَّۃًسے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف (علیہما السلام) کی دینی پیشوائی جو مصر میں قومی انقلاب کے برپا ہوجانے کے بعد عرصہ دراز سے ختم ہوچکی ہے اور اب فرعون اپنے آپ کو سورج دیوتا کا اوتار قرار دے کر پیشوا بنا بیٹھا ہے۔ اس دینی منصب پر دوبارہ بنی اسرائیل کو بحال کیا جائے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد بنی اسرائیل کو یہ پیشوائی حاصل ہوئی اور نَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَ سے مراد خلافت و ملوکیت ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ حکومت بھی عطا کی۔ ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد عرصہ دراز تک بنی اسرائیل کو اقتدار حاصل رہا۔ اب جبکہ وہ ایک طویل عرصہ سے اقتدار سے محروم ہوچکے تھے اور بری طرح سے اذیتوں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دوبارہ انھیں خلافت و حکومت دینے کا فیصلہ فرمایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے اس کا آغاز ہوا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں اس کی حدود یہاں تک وسیع ہوگئیں کہ فلسطین اس حکومت کا مرکز قرار پایا اور مصر جیسی سلطنتیں اس کی باج گزار بن گئیں۔ اور اسی وراثت کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ اب جبکہ فرعون اور ہامان کا اقتدار اپنے عروج پر ہے اور وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ انھیں اچانک نیست و نابود کردیا جائے گا۔ ان لوگوں کو اقتدار اور صولت و دبدبہ بخشا جائے۔ جو غلاموں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں اور مصر میں ایسا انقلاب برپا کردیں جس کے اندیشے میں فرعون اور ہامان گھلتے جارہے ہیں۔ وہ اپنی غیرمعمولی شوکت و حشمت کے باوجود اس بات سے خوفزدہ تھے کہ بنی اسرائیل کی تعداد روزبروز غیرمعمولی طور پر بڑھتی جارہی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ قوت حاصل کرلیں اور ملک پر قبضہ جما لیں یا باہر کے دشمنوں سے مل کر قبطیوں کو بےدخل کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ ان کے اندیشوں کو حقیقت بنادیا جائے۔ چناچہ اس کے بعد کی آیتوں میں ان واقعات کو بیان کیا گیا ہے جن سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت بھی سامنے آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادے کی عملی صورت بھی پوری شان کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ ہامان کے بارے میں وضاحت اس آیت کریمہ میں پہلی دفعہ فرعون کے ساتھ ہامان کا ذکر آیا ہے۔ اور اس طرح آیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حیثیت فرعون کے وزیر کی تھی۔ لیکن تورات میں اس کا نام مرقوم نہیں۔ اس بنیاد پر مغربی مستشرقین نے اس پر بہت قیل و قال سے کام لیا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ قرآن کریم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت میں ایک ایسا اضافہ کررہا ہے جس کے بارے میں آسمانی کتابیں اور تاریخ کا تمام ذخیرہ بالکل خاموش ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ علمی دنیا اس پر شکرگزار ہوتی، لیکن مستشرقین جو اپنے آپ کو علم اور تحقیق سے منسوب کرتے ہیں اس پر شکرگزار ہونے کی بجائے تنقید کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اور تنقید میں جو باتیں کہتے ہیں اگر یہی باتیں ان کی کسی علمی کتاب کے بارے میں کسی اور جانب سے کہی جاتیں تو یہ اس کو اضحوکہ روزگار بنا لیتے۔ لیکن انھیں کچھ اندازہ نہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کی علمی دنیا میں کیا حیثیت ہے۔ اندازہ فرمایئے ان کا کہنا یہ ہے کہ ہامان تو ایران کے بادشاہ اخسویرس کے دربار کا ایک امیر تھا اور اس کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سینکڑوں برس بعد ہے۔ قرآن کریم نے اسے مصر لے جا کر فرعون کا وزیر بنادیا۔ جس آدمی کے دماغ میں تھوڑی سی بھی عقل ہے بشرطیکہ وہ تعصب سے بیکار نہ ہوچکی ہو وہ کبھی اس بات کو باور نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہامان نام کا صرف ایک ہی شخص ہوا ہے حالانکہ ہر نام کے لوگ ہر دور میں بیشمار رہے ہیں۔ اگر فرعون کے ہم نشینوں میں بھی کوئی شخص ہامان نام کا رہا ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ کیا یہ حضرات یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ان کو فرعون اور اس کے تمام وزراء و اعیان اور اس عہد کے تمام اکابرِ مصر کے ناموں کی فہرست مل گئی ہے، یا وہ کم از کم یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ فرعون کی کابینہ میں جتنے وزراء تھے ہم تمام سے نام بنام واقف ہیں اور ہمارے پاس ان کا نہایت مصدقہ ریکارڈ موجود ہے۔ ظاہر ہے ایسا دعویٰ کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ وہ تو اس فرعون کے بارے میں بھی متفق اللفظ نہیں ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہمعصر تھا۔ بس قرآن کریم کی مخالفت کا جنون اور اسلام سے حد سے بڑھا ہوا تعصب انھیں بالکل سامنے کی بات کو سمجھنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جن کا علم کی نگاہ میں کوئی وزن نہیں ہوتا۔
Top