Tafseer-e-Saadi - Al-Hashr : 13
لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ
لَاَانْتُمْ : یقیناً تم۔ تمہارا اَشَدُّ رَهْبَةً : بہت زیادہ ڈر فِيْ صُدُوْرِهِمْ : ان کے سینوں میں مِّنَ اللّٰهِ ۭ : اللہ سے ذٰلِكَ : یہ بِاَنَّهُمْ : اس لئے کہ وہ قَوْمٌ : ایسے لوگ لَّا يَفْقَهُوْنَ : کہ وہ سمجھتے نہیں
(مسلمانوں ! ) تمہاری ہیبت ان لوگوں کے دلوں میں خدا سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ سمجھ نہیں رکھتے۔
اے مومنو وہ سبب جس نے ان کو اس امر پر آمادہ کیا ہے یہ ہے کہ (لَاَانْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ ۭ ) تمہاری ہیبت ان کے دلوں میں اللہ کی ہیبت سے بڑھ کر ہے۔ اس لیے جتنا وہ اللہ سے ڈرتے ہیں اس سے بڑھ کر وہ تم سے ڈرتے ہیں پس انہوں نے مخلوق کے خوف کو جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتی خالق کے خوف پر مقدم رکھا ہے۔ (ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ ) یہ اس لیے کہ یہ بےسمجھ لوگ ہیں یعنی وہ امور کے مراتب کو نہیں سمجھتے۔ وہ اشیا کے حقائق کو معرفت رکھتے ہیں نہ وہ انجام کا تصور کرسکتے ہیں کامل ترین سمجھ اور تفقہ یہ ہے کہ خالق کے خوف، اس پر امید اور اس کی محبت کو غیر کے خوف، امید اور محبت پر مقدم رکھا جائے، غیر کا خوف، امید اور محبت خالق کے خوف، امید اور محبت کے تابع ہو۔
Top