Tafseer-al-Kitaab - Al-Muminoon : 54
نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ
نُسَارِعُ : ہم جلدی کر رہے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے فِي الْخَيْرٰتِ : بھلائی میں بَلْ : بلکہ لَّا يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور (سمجھ) نہیں رکھتے
(تو اس کے یہ معنی ہیں کہ) ان کو بھلائیاں دینے میں سرگرم ہیں ؟ (نہیں، حقیقت حال دوسری ہی ہے) مگر یہ لوگ (اصل معاملے کا) شعور نہیں رکھتے۔
[29] یعنی اس دنیا میں مہلت کا قانون کام کر رہا ہے۔ یہاں مہلت سب کے لئے ہے، اچھوں کے لئے بھی اور بروں کے لئے بھی، اہل ایمان کے لئے بھی اور فساق و فجار کے لئے بھی۔ پس اگر کفار کو دنیوی زندگی کی خوشحالیاں مل رہی ہیں تو اس لئے نہیں کہ اللہ کا قانون مجازات معطل ہوگیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ بدعملیوں پر بھی انھیں فوائد سے بہرہ اندوز کرے بلکہ اس لئے کہ مقررہ وقت ابھی آیا نہیں۔ اس ضمن میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ یہ دنیا دراصل دارالجزا نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ یہاں جزاو سزا اگر ہے بھی تو بہت محدود پیمانے پر اور ناقص صورت میں ہے اور امتحان کا پہلو خود اس میں بھی موجود ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز کر کے یہ سمجھ لینا کہ یہاں کا عیش و آرام اور اس کے پانے والے کے برحق، صالح اور اللہ کا محبوب ہونے کا ثبوت ہے اور تکلیف و آلام میں زندگی بسر کرنے والا غیرصالح اور مغضوب بارگاہ الٰہی ہے تو یہ ایک بڑی غلط فہمی بلکہ حماقت ہے۔ مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نحل حاشیہ 34 صفحہ 632۔
Top