Taiseer-ul-Quran - Al-Anbiyaa : 98
اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ
اِنَّهٗ : بیشک وہ يَعْلَمُ : وہ جانتا ہے الْجَهْرَ : پکارنا مِنَ الْقَوْلِ : بات کو وَيَعْلَمُ : اور جانتا ہے مَا تَكْتُمُوْنَ : جو تم چھپاتے ہو
اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم بھی اور جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے رہے سب جہنم کا ایندھن 88 ہیں۔ وہی تم کو جانا ہے۔ (
88 یعنی مشرکوں کو ان کے معبودوں یعنی بتوں سمیت جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور یہ بت عموماً پتھر کے ہوتے تھے۔ اسی مضمون کو اللہ نے سورة بقرہ میں فرمایا (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۝) 66 ۔ التحریم :6) جہنم کا ایندھن آدمی بھی ہوں گے اور پتھر بھی اور ان معبودوں کو جہنم میں دیکھ کر ان کے پوجنے والوں کی تکلیف اور حسرت میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔ ایک اس لئے کہ جن معبودوں سے وہ کئی طرح توقعات وابستہ کئے ہوئے تھے وہ ایسے بےبس ثابت ہوئے کہ انہی کی طرح جہنم میں جل رہے ہیں اور دوسرے اس لئے وہ جہنم کا ایندھن بن کر ان پجاریوں کے آگ کے عذاب کو مزید بھڑکانے کا باعث بن رہے ہیں۔
Top