Kashf-ur-Rahman - Al-Muminoon : 110
فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ
فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ : پس تم نے انہیں بنا لیا سِخْرِيًّا : ٹھٹھا : یہاں تک کہ اَنْسَوْكُمْ : انہوں نے بھلا دیا تمہیں ذِكْرِيْ : میری یاد وَكُنْتُمْ : اور تم تھے مِّنْهُمْ : ان سے تَضْحَكُوْنَ : ہنسی کیا کرتے تھے
لیکن تم نے انہیں اپنے تمسخر کا مشغلہ بنا لیا یہاں تک کہ اس مشغلہ نے ہماری یاد بھی بھلا دی تھی ، تم ان لوگوں کی باتوں پر ہنسا کرتے تھے
تم نے دنیا میں ان کو تضحیک کا نشانہ بنایا اور میری یاد کو بلا دیا : 110۔ دنیا میں تم نے ان کو اپنے مذاق کا نشانہ بنایا اور ان کی تضحک میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور آج میں نے ان کو ان کے صبر و استقامت کا صلہ دیا اب وہ فائزالمرام ہیں اس کے لئے انہیں کو زبۃ المرام میں ہونا ہے اور رہے تم تو اب یہ پہاڑ جھونکو اور اس میں پڑے منہ بسورتے اور چڑھاتے رہو تاکہ تمہاری اس حالت کو دیکھ کر ان کا دل سکون پکڑے اور تم انکی اس حالت کو دیکھ کر جل بھن کر رہ جاہ اب ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کیا وہ چیز تمہارے سامنے موجود ہے یا نہیں جس کو تم نے بھلائے رکھا ؟ غریب و مساکین پر جو مظالم اس سبب سے ڈھائے گئے کہ انہوں نے (ربنا اللہ) کہنے کا جرم عظیم کیا اور قوم کے وڈیروں نے انکو اس جرم کی پاداش میں دبانے اور پھر دباتے ہی چلے جانے کی پالیسی اختیار کی وہ بلاشبہ حقیقت مشاہدہ تو اسی وقت ہی کریں گے جب انکو مشاہدہ کرایا جائے گا لیکن اب بھی وہ جب ان آیات کریمات کو پڑھتے ہیں اور خصوصا جب وہ ان کو سمجھتے بھی ہوں تو انکی ایمانی حالت یقینا پختہ ترین ہوجاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مزید کمر ہمت باندھ لیتے ہیں ۔
Top