سنن ابو داؤد - ادب کا بیان - حدیث نمبر 3011
حدیث نمبر: 3013
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَسَمَهَا عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ فَعَزَلَ نِصْفَهَا لِنَوَائِبِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا يَنْزِلُ بِهِ الْوَطِيحَةَ وَالْكُتَيْبَةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَعَزَلَ النِّصْفَ الْآخَرَ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الشِّقَّ وَالنَّطَاةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا.
خیبر کی زمین کا بیان اور اس کا حکم
بشیر بن یسار ؓ کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے خیبر اپنے نبی اکرم ﷺ کو بطور غنیمت عطا فرمایا تو آپ نے اس کے (٣٦ چھتیس) حصے کئے اور ہر حصے میں سو حصے رکھے، تو اس کے نصف حصے اپنی ضرورتوں و کاموں کے لیے رکھا اور اسی میں سے وطیحہ وکتیبہ ١ ؎ اور ان سے متعلق جائیداد بھی ہے اور دوسرے نصف حصے کو جس میں شق و نطاۃ ٢ ؎ ہیں اور ان سے متعلق جائیداد بھی شامل تھی الگ کر کے مسلمانوں میں تقسیم کردیا اور رسول اللہ ﷺ کا حصہ ان دونوں گاؤں کے متعلقات میں تھا۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (٣٠١١)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٣٥، ١٨٤٥٦) (صحیح) (یہ روایت گرچہ مرسل ہے پچھلی سے تقویت پا کر صحیح ہے، أغلب یہی ہے کہ وہی صحابی یہاں بھی واسطہ ہیں)
وضاحت: ١ ؎: یہ دونوں گاؤں کے نام ہیں۔ ٢ ؎: یہ بھی دو گاؤں کے نام ہیں۔
Bashir bin Yasar said that he heard a number of the Companions of the Prophet ﷺ say. He then narrated the tradition (mentioned above). He said “One half comprised the portions of the Muslims and the portion of the Messenger of Allah ﷺ . He separated the other half for the Muslims for any calamity that befalls him and for emergent needs. ”
Top