مؤطا امام مالک - کتاب صلوة اللیل - حدیث نمبر 1351
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي
وتر کا بیان
ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت کہ انہوں نے پوچھا حضرت عائشہ ؓ کیونکہ تھی نماز رسول اللہ ﷺ کی رمضان میں تو کہا حضرت عائشہ نے نہیں زیادہ کرتے تھے آپ ﷺ رمضان میں اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت پڑھتے تھے چار رکعتیں تو مت پوچھ ان کی خوبی اور طول کا حال پھر پڑھتے تھے چار رکعتیں تو مت پوچھ ان کی خوبی اور طول کا حال پھر تین رکعتیں پڑھتے تھے پوچھا حضرت عائشہ نے یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ سو جاتے ہیں وتر پڑھنے سے پہلے فرمایا اے عائشہ میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔
Top