صحیح مسلم - - حدیث نمبر 2878
حدیث نمبر: 2671
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمْ يُقْتَلْ مِنْ نِسَائِهِمْ تَعْنِي بَنِي قُرَيْظَةَ إِلَّا امْرَأَةٌ إِنَّهَا لَعِنْدِي تُحَدِّثُ تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يقتل رجالهم بالسيوف، ‏‏‏‏‏‏إذ هتف هاتف باسمها أين فلانة ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ أَنَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَمَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ حَدَثٌ أَحْدَثْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقَ بِهَا فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا فَمَا أَنْسَى عَجَبًا مِنْهَا أَنَّهَا تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا وَقَدْ عَلِمَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ.
جنگ میں عورتوں کے قتل کی ممانعت
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ بنی قریظہ کی عورتوں میں سے کوئی بھی عورت نہیں قتل کی گئی سوائے ایک عورت کے جو میرے پاس بیٹھ کر اس طرح باتیں کر رہی تھی اور ہنس رہی تھی کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑجا رہے تھے، اور رسول ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا: فلاں عورت کہاں ہے؟ وہ بولی: میں ہوں، میں نے پوچھا: تجھ کو کیا ہوا کہ تیرا نام پکارا جا رہا ہے، وہ بولی: میں نے ایک نیا کام کیا ہے، عائشہ ؓ کہتی ہیں: پھر وہ پکارنے والا اس عورت کو لے گیا اور اس کی گردن مار دی گئی، اور میں اس تعجب کو اب تک نہیں بھولی جو مجھے اس کے اس طرح ہنسنے پر ہو رہا تھا کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ پڑجا رہے تھے، حالانکہ اس کو معلوم ہوگیا تھا کہ وہ قتل کردی جائے گی ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٧٧) (حسن )
وضاحت: ١ ؎: کہا جاتا ہے کہ اس عورت کا نیا کام یہ تھا کہ اس نے رسول اللہ کو گالیاں دی تھیں، اسی سبب سے اسے قتل کیا گیا۔
Top