Sunan Abu Dawood 4508صحیح
جو کسی کو زہر کھلائے یا پلائے اور وہ مرجائے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 4508
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ، فَقَالَ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَلِكَ، أَوْ قَالَ: عَلَيَّ، فَقَالُوا أَلَا نَقْتُلُهَا ؟ قَالَ: لَا، فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک زہر آلود بکری لے کر آئی، آپ نے اس میں سے کچھ کھالیا، تو اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے اس سلسلے میں اس سے پوچھا، تو اس نے کہا : میرا ارادہ آپ کو مار ڈالنے کا تھا، آپ نے فرمایا : اللہ تجھے کبھی مجھ پر مسلط نہیں کرے گا صحابہ نے عرض کیا : کیا ہم اسے قتل نہ کردیں، آپ نے فرمایا : نہیں چناچہ میں اس کا اثر برابر رسول اللہ ﷺ کے مسوڑھوں میں دیکھا کرتا تھا۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الھبة ٢٨ (٢٦١٧) ، صحیح مسلم/السلام ١٨ (٢١٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٨١) (صحیح )
Narrated Anas bin Malik (RA): A Jewess brought a poisoned sheep to the Messenger of Allah ﷺ , and he ate of it. She was then brought to the Messenger of Allah ﷺ who asked her about it. She said: I intended to kill you. He said: Allah will not give you control over it ; or he said: over me. They (the Companions) said: Should we not kill her ? He said: No. He (Anas) said: I always found it in the uvula of the Messenger of Allah ﷺ