مسند امام احمد - حضرت میمون یا مہران کی حدیث۔ - حدیث نمبر 2306
حدیث نمبر: 2345
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ سِتَّةُ مَمْلُوكِينَ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ فَجَزَّأَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً.
قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنا
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کردیا، رسول اللہ ﷺ نے ان کے حصے کئے (دو دو کے تین حصے) (اور قرعہ اندازی کر کے) دو کو (جن کے نام قرعہ نکلا) آزاد کردیا، اور چار کو بدستور غلام رکھا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحدود ٥ (١٦٦٨)، سنن ابی داود/الحدود ٢٥ (٣٩٥٨، ٣٩٥٩)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٧ (١٣٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز ٦٥ (١٩٦٠)، مسند احمد (٤/٤٢٠، ٤٣٥، ٤٣٧، ٤٤٠) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: جب آدمی بیمار ہو تو اس کو چاہیے کہ وارثوں کا خیال رکھے، اور اپنی ساری دولت تقسیم نہ کر دے، اگر ایسا ہی ضروری ہو تو تہائی مال تک اللہ کی راہ میں دے دے، اور دو تہائی دولت وارثوں کے لئے چھوڑ دے، اگر ساری دولت کے صدقہ کی وہ وصیت کرے تو یہ وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہوگی۔ نبی کریم نے ایسا ہی کیا، دو غلاموں کو قرعہ ڈال کر آزاد کرایا، اور قرعہ اس واسطے ڈالا کہ وہ جھگڑا نہ کریں، اور وہ وارثوں کی ملکیت میں بدستور غلام رہے، دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم نے اس شخص کے حق میں سخت کلمہ کہا کیونکہ اس نے وارثوں کا خیال نہیں رکھا تھا۔
Top