مشکوٰۃ المصابیح - - حدیث نمبر 4290
حدیث نمبر: 2772
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ أَحْمَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ.
خوشخبری دینے کے لئے کسی کو بھیجنا
جریر ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ نے فرمایا: کیا تم مجھے ذو الخلصہ ١ ؎ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے؟ ٢ ؎، یہ سن کر جریر ؓ وہاں آئے اور اسے جلا دیا پھر انہوں نے قبیلہ احمس کے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاۃ تھی رسول اللہ کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کو اس کی خوشخبری دیدے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٥٤ (٣٠٢٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٩ (٢٤٧٦)، (تحفة الأشراف: ٣٢٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٠، ٣٦٢، ٣٦٥) (صحیح) بأتم منہ ۔
وضاحت: ١ ؎: ایک گھر تھا جس میں دوس اور خثعم کے بت رہتے تھے، اور بعضوں نے کہا خود بت کا نام تھا۔ ٢ ؎: تم مجھے ذوالخلصہ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے کا مطلب ہے کہ کیا تم اسے برباد نہیں کروگے کہ خس کم جہاں پاک۔
Top