Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (2928 - 3088)
Select Hadith
2928
2929
2930
2931
2932
2933
2934
2935
2936
2937
2938
2939
2940
2941
2942
2943
2944
2945
2946
2947
2948
2949
2950
2951
2952
2953
2954
2955
2956
2957
2958
2959
2960
2961
2962
2963
2964
2965
2966
2967
2968
2969
2970
2971
2972
2973
2974
2975
2976
2977
2978
2979
2980
2981
2982
2983
2984
2985
2986
2987
2988
2989
2990
2991
2992
2993
2994
2995
2996
2997
2998
2999
3000
3001
3002
3003
3004
3005
3006
3007
3008
3009
3010
3011
3012
3013
3014
3015
3016
3017
3018
3019
3020
3021
3022
3023
3024
3025
3026
3027
3028
3029
3030
3031
3032
3033
3034
3035
3036
3037
3038
3039
3040
3041
3042
3043
3044
3045
3046
3047
3048
3049
3050
3051
3052
3053
3054
3055
3056
3057
3058
3059
3060
3061
3062
3063
3064
3065
3066
3067
3068
3069
3070
3071
3072
3073
3074
3075
3076
3077
3078
3079
3080
3081
3082
3083
3084
3085
3086
3087
3088
سنن النسائی - رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث - حدیث نمبر 334
وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَےْفَ اَنْتَ اِذَا کَانَتْ عَلَےْکَ اُمَرَآءُ ےُمِےْتُوْنَ الصَّلٰوۃَ اَوْ ےُؤَخِّرُوْنَ عَنْ وَقْتِھَا قُلْتُ فَمَا تَاْمُرُنِیْ قَالَ صَلِّ الصَّلٰوۃَ لِوَقْتِھَا فَاِنْ اَدْرَکْتَھَا مَعَھُمْ فَصَلِّ فَاِنَّھَا لَکَ نَافِلَۃٌ۔ (صحیح مسلم)
جلدی نماز پڑھنے کا بیان
اور حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اس وقت تم کیا کرو گے جب کہ تمہارے امراء (احکام) نماز کو وقت مختار سے ٹال کر، یا وقت مختار سے مؤخر کر کے پڑھیں گے۔ میں نے عرض کیا، ایسے وقت کے لئے آپ ﷺ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔ اس وقت تم اپنی نماز کو وقت پر پڑھ لو پھر اگر ان کے ساتھ بھی نماز مل جائے تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لو، یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے الفاظ (او کانوا یوخرون عن وقتھا) لفظ اور اوی کا شک ہے یعنی حدیث کے کسی راوی کو شک ہوا ہے کہ اس سے پہلے کے راوی نے لفظ یمیتون کہا ہے یا یو خرون۔ ویسے معنی کے اعتبار سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے اس وقت تم کیا کرو گے جب کہ تم یہ دیکھو گے کہ وہ آدمی جو تمہارا حاکم و سردار ہوگا نماز میں سستی و کاہلی کرے گا نماز کو اس کے اول وقت میں نہ پڑھے گا بلکہ غیر مختار طور پر مؤخر کرے گا اور چونکہ وہ تمہارا حاکم ہوگا اس لئے اس پر قادر نہیں ہو سکو گے کہ اس کی مخالفت کر کے اسے سیدھی راہ پر لگا دو تمہیں یہ خوف ہوگا کہ اگر نماز اس کے ہمراہ پڑھتے ہو تو اول وقت نماز پڑھنے کی فضیلت ہاتھ سے جاتی ہے اور اگر اس کی مخالفت کرتے ہو تو نہ صرف یہ کہ اس کی طرف سے تکلیف و ایذاء پہنچنے کا بلکہ جماعت کی فضیلت سے محروم ہونے کا بھی خدشہ رہے گا۔ چناچہ حضرت ابوذر ؓ نے لگے ہاتھوں ایسے موقع کے لئے حکم بھی پوچھ لیا کہ جب ایسی صورت پیش آئے تو مجھے کیا طریقہ عمل اختیار کرنا چاہئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ سیدھا راستہ بتادیا کہ جب بھی ایسا موقع ہو تو کم سے کم تم اپنی نماز تو صحیح وقت پر ادا کر ہی لینا پھر اس کے بعد اگر تمہیں اتفاق سے ان کی نماز میں بھی شامل ہوجانے کا موقع مل جائے تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لینا تمہاری یہ نماز نفل ہوجائے گی، اس طرح تمہیں دوہرا ثواب مل جائے گا۔ چنانچہ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی امام نماز میں تاخیر کرے تو مقتدیوں کو چاہئے کہ وہ اول وقت اپنی نماز ادا کرلیں پھر بعد میں امام کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیں تاکہ اس طرح وقت اور جماعت دونوں کی فضیلت پاسکیں لیکن یہ جان لینا چاہئے کہ یہ حکم صرف ظہر اور عشاء کے بارے میں ہے۔ کیونکہ فجر اور عصر میں تو فرض ادا کرلینے کے بعد نفل نماز پڑھنی مکروہ ہے اور مغرب کی چونکہ تین رکعت فرض ہیں اور تین رکعت نفل مشروع نہیں ہے اس لئے مغرب میں بھی یہ طریقہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں تک حدیث کے اطلاق کا تعلق ہے اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ ضرورت کی بناء پر ہے کہ امراء و حکام کے ہمراہ چونکہ نماز نہ پڑھنے اور ان کے خلاف کرنے کی وجہ سے فتنے و فساد میں مبتلا ہونے کا خدشہ تھا اس لئے آپ ﷺ نے ظہر اور عشاء کی قید نہیں لگائی کہ مکروہات کا ارتکاب اس سے بہتر ہے کہ فتنہ و فساد کو جنم دیا جائے پھر یہ کہ اسے مواقع پر مکروہات بھی مباح ہوجاتے ہیں۔ آخر میں اتنی بات اور سمجھ لیجئے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے جو یہ فرمایا تھا وہ محض پیش بندی کے طور پر نہیں فرمایا تھا بلکہ در اصل آپ ﷺ نے معجزے کے طور پر آئندہ پیش آنے والے یقینی حالات کی پیشین گوئی فرمائی تھی۔ چناچہ جاننے والے جانتے ہیں کہ بنی امیہ کے دور میں یہ پیشین گوئی پوری صداقت کے ساتھ صحیح ہوئی کہ اس زمانے کے امراء و حکام نماز میں انتہائی سستی و کاہلی کرتے تھے اور نماز کو وقت مختار سے مؤخر کر کے پڑھا کرتے تھے۔
Top