سنن ابو داؤد - مناسک حج کا بیان - حدیث نمبر 2037
حدیث نمبر: 2037
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ وَجَدَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ ثِيَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ.
مدینہ کے حرم کا بیان
سلیمان بن ابی عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو پکڑا جو مدینہ کے حرم میں جسے رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا ہے شکار کر رہا تھا، سعد نے اس سے اس کے کپڑے چھین لیے تو اس کے سات (٧) لوگوں نے آ کر ان سے اس کے بارے میں گفتگو کی، آپ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اسے حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے: جو کسی کو اس میں شکار کرتے پکڑے تو چاہیئے کہ وہ اس کے کپڑے چھین لے ، لہٰذا میں تمہیں وہ سامان نہیں دوں گا جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے دلایا ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی قیمت دے دوں گا۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٣٨٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٨٥ (٤٠٦٠)، مسند احمد (١/١٦٨، ١٧٠) (صحیح) (لیکن شکار کی بات منکر ہے، صحیح بات درخت کاٹنے کی ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے اور صحیح مسلم میں بھی یہی بات ہے )
Narrated Sulayman ibn Abu Abdullah (RA) : Sulayman ibn Abu Abdullah said: I saw Saad ibn Abu Waqqas seized a man hunting in the sacred territory of Madina which the Messenger of Allah ﷺ had declared to be sacred. He took away his clothes from him. His patrons came to him and spoke to him about it, but he replied: The Messenger of Allah ﷺ declared this territory to be sacred, saying: If anyone catches someone hunting in it he should take away from him his clothes. So I shall not return to you a provision which the Messenger of Allah ﷺ has given me, but if you wish I shall pay you its price.
Top