مشکوٰۃ المصابیح - نیکی و صلہ رحمی کا بیان - حدیث نمبر 2759
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ قُومُوا فَلَأُصَلِّيَ لَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَنَسٌ:‏‏‏‏ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْصَرَفَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
جب تین آدمی جماعت کریں تو کیسے کھڑے ہوں؟
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ان کی دادی ملیکہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے پر بلایا، جو انہوں نے آپ ﷺ کے لیے تیار کیا تھا، تو آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا: تم لوگ کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ۔ انس ؓ کہتے ہیں: تو میں اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا، جو عرصے سے پڑے پڑے کالی ہوگئی تھی تو اس پر میں نے پانی چھڑکا، پھر رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے، میں نے اور ایک یتیم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف باندھی اور بوڑھی عورت (ملیکہ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں تو آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ ﷺ اپنے گھر واپس ہوئے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ٢٠ (٣٨٠)، والأذان ٧٨ (٧٢٧)، ١٦١ (٨٦٠)، ١٦٤ (٨٧١)، ١٦٧ (٨٧٤)، صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٦٥٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٩ (٢٣٤)، سنن النسائی/المساجد ٤٣ (٧٣٨)، والإمامة ١٩ (٨٠٢)، ٦٢ (٨٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٩(٣١)، مسند احمد (٣/١٣١، ١٤٥، ١٤٩، ١٦٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٦١ (١٣٢٤)، (صحیح )
Top