صحيح البخاری - تفاسیر کا بیان - حدیث نمبر 4606
حدیث نمبر: 4615
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ أَلَا نَخْتَصِي، ‏‏‏‏‏‏فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَخَّصَ لَنَا بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ سورة المائدة آية 87.
باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والو! اپنے اوپر ان پاک چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں از خود حرام نہ کر لو“۔
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ ہو کر جہاد کیا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں۔ اس پر ہم نے عرض کیا کہ ہم اپنے آپ کو خصی کیوں نہ کرلیں۔ لیکن نبی کریم نے ہمیں اس سے روک دیا اور اس کے بعد ہمیں اس کی اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے کپڑے (یا کسی بھی چیز) کے بدلے میں نکاح کرسکتے ہیں۔ پھر عبداللہ ؓ نے یہ آیت پڑھی يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم اے ایمان والو! اپنے اوپر ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لیے جائز کی ہیں۔
Narrated Tariq bin Shihab (RA) : The Jews said to Umar, "You (i.e. Muslims) recite a Verse, and had it been revealed to us, we would have taken the day of its revelation as a day of celebration." Umar said, "I know very well when and where it was revealed, and where Allahs Apostle ﷺ was when it was revealed. (It was revealed on) the day of Arafat (Hajj Day), and by Allah, I was at Arafat" Sufyan, a sub-narrator said: I am in doubt whether the Verse:-- "This day I have perfected your religion for you." was revealed on a Friday or not.
Top