Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3190 - 3325)
Select Hadith
3190
3191
3193
3194
3195
3196
3197
3198
3199
3200
3201
3202
3203
3204
3205
3206
3207
3208
3209
3210
3211
3212
3213
3214
3215
3216
3217
3218
3219
3220
3221
3222
3223
3224
3225
3226
3227
3228
3229
3230
3231
3232
3233
3234
3235
3236
3237
3238
3239
3240
3241
3242
3243
3244
3245
3246
3247
3248
3249
3250
3251
3252
3254
3255
3256
3257
3258
3259
3260
3261
3262
3263
3264
3265
3266
3267
3268
3269
3270
3271
3272
3274
3276
3277
3278
3279
3280
3281
3282
3283
3284
3285
3286
3287
3288
3289
3290
3291
3292
3293
3294
3295
3296
3297
3299
3300
3301
3302
3303
3304
3305
3306
3307
3308
3309
3310
3312
3314
3315
3316
3317
3318
3319
3320
3321
3322
3323
3324
3325
صحيح البخاری - انبیاء علیہم السلام کا بیان - حدیث نمبر 3452
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس الخبر كالمعاينة إن الله تعالى أخبر موسى بما صنع قومه في العجل فلم يلق الألواح فلما عاين ما صنعوا ألقى الألواح فانكسرت . روى الأحاديث الثلاثة أحمد
شنیدہ کے بود دیدہ :
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی چیز کے بارے میں سننا، اس کو آنکھ سے دیکھنے کے برابر نہیں ہوسکتا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے اس عمل کے بارے میں خبر دی جو انہوں نے گوسالہ پرستی کی صورت میں کیا تھا تو انہوں نے (مارے غصہ کے) تختیوں کو نہیں پھینکا لیکن جب وہ اپنی قوم میں واپس آئے اور اپنی آنکھوں سے قوم کے اس عمل کو دیکھا تو (اس درجہ غضبناک ہوگئے کہ) تختیوں کو پھینک دیا اور وہ ٹوٹ گئیں۔ ان تینوں حدیثوں کو احمدنے نقل کیا ہے۔
تشریح
کسی چیز کے بارے میں سننا، اس کو آنکھ سے دیکھنے کے برابر نہیں ہوسکتا۔ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے ایک اہم نفسیاتی نکتہ کی طرف ارشاد فرمایا ہے، انسان کا خاصہ ہے کہ وہ آنکھ سے دیکھی ہوئی چیز سے جتنا زیادہ اور جتنی جلدی متاثر ہوتا ہے اتنا زیادہ اور اتنی جلدی سنی ہوئی چیز سے متاثر نہیں ہوتا، اگر اس کو یہ خبر و اطلاع دی جائے کہ تمہارا فلاں عزیز سخت بیمار ہے تو اس کا پریشان اور متفکر ہوجانا فطری امر ہے لیکن اس خبر و اطلاع کے مقابلہ میں، خواہ وہ کتنی ہی یقینی کیوں نہ ہو، اس کے دل و دماغ پر وہ فکر اور پریشانی کہیں زیادہ سخت اور سریع الاثر ہوتی ہے جو اس بیمار عزیز کو آنکھوں سے دیکھ لینے کی صورت میں لاحق ہوتی ہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے اسی نکتہ کو ثابت کرنے کے لے یہ واقع بطور مثال پیش فرمایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چلہ کشی) کے لئے جبل طور پر تشریف لے گئے اور وہاں اپنے پروردگار سے راز ونیاز میں مصروف اور اپنی قوم بنی اسرائیل کے لئے آئین الہٰی (تورات) حاصل کرنے میں مشغول تھے تو نیچے وادی سینا میں ان کی قوم نے ایک بد باطن شخص سامری کی قیادت میں گوسالہ کی پوجا شروع کردی، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس واقعہ سے مطلع کیا اور فرمایا کہ موسیٰ! تو جس قوم کی ہدایت کے لئے اس قدر کوشاں اور مضطرب ہو اور یہاں (کوہ طور پر) اس کے لئے میری طرف سے کتاب و ہدایت (تورات) حاصل کررہے ہو، وہ تمہارے پیچھے گوسالہ پرستی کی گمراہی میں مبتلا ہوگئی ہے، یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رنج ہوا اور غصہ بھی آیا مگر جب وہ قوم کی طرف واپس آئے اور قوم کے لوگوں کو گوسالہ کی سمادھ لگائے اور اس کی پوجا کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تو وہ کہیں زیادہ غضب ناک ہوگئے اور اس غیظ وغضب کی بنا پر انہوں نے ان تختیوں کو جن پر تورات لکھی ہوئی تھی زمین پر پھینک دیا جس سے وہ تختیاں ٹوٹ بھی گئیں۔ ان تختیوں کو پھینک کر گویا انہوں نے یہ واضح کیا کہ یہ آئین الہٰی اہل ایمان ہی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، جن لوگوں نے ایمان و عقیدہ کی راہ ترک کر کے کفر اور سرکشی کو اختیار کرلیا ہے ان کے لئے آئین الہٰی پر مشتمل ان تختیوں کو باقی رکھنے کا اب کیا فائدہ رہ گیا۔ تاہم ان تختیوں کے ٹوٹ جانے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ان میں جو کچھ تھا وہ جاتا رہا، ان تختیوں میں جو احکام و فرمان تھے وہ سب کے سب جوں کے توں موجود تھے اور اصل تورات اپنی جگہ باقی تھی۔
Top