Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6304 - 6411)
Select Hadith
6304
6305
6306
6307
6308
6309
6310
6311
6312
6313
6314
6315
6316
6317
6318
6319
6320
6321
6322
6323
6324
6325
6326
6327
6328
6329
6330
6331
6332
6333
6334
6335
6336
6337
6338
6339
6340
6341
6342
6343
6344
6345
6346
6347
6348
6349
6350
6351
6352
6353
6354
6355
6356
6357
6358
6359
6360
6361
6362
6363
6364
6365
6366
6367
6368
6369
6370
6371
6372
6373
6374
6375
6376
6377
6378
6380
6382
6383
6384
6385
6386
6387
6388
6389
6390
6391
6392
6393
6394
6395
6396
6397
6398
6399
6400
6401
6402
6403
6404
6405
6406
6407
6408
6409
6410
6411
معارف الحدیث - کتاب المعاملات - حدیث نمبر 798
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ ، فَقَالَ : « اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا ، أَوْ خَمْسًا ، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا ، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ ، فَآذِنَّنِي » قَالَتْ : فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ ، فَقَالَ : « أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ » وَفىْ رِوَايَةٍ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا ، أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا وَابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا ، وَمَوَاضِعِ الوُضُوءِ مِنْهَا. (رواه البخارى ومسلم)
میت کا غسل و کفن
حضرت ام عطیہ انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک فوت شدہ صاحبزادی کو ہم غسل دے رہے تھے، اس وقت رسول اللہ ﷺ گھر میں تشریف لائے اور ہم سے فرمایا کہ: تم اس کو بیری کے پتوں کے ساتھ جوش دئیے ہوئے پانی سے تین دفعہ یا پانچ دفعہ اور اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ غسل دیجو، اور آخری دفعہ کافور بھی مل کیجو، پھر جب تم غسل دے چکو تو مجھے خبر دیجو۔ (ام عطیہؓ کہتی ہیں کہ) جب ہم غسل دے کر فارغ ہو گئے تو ہم نے آپ ﷺ کو اطلاع دے دی تو آپ ﷺ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینک دیا اور فرمایا کہ: " سب سے پہلے یہ اسے پہنا دو "۔ اور اس حدیث کی ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اس کو طاق دفعہ غسل دیجو۔ تین دفعہ یا پانچ دفعہ اور داہنے اعضاء سے اور وضو کے مقامات سے شروع کیجو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اللہ کا جو بندہ اس دنیا سے رخصت ہو کر موت کے راستے سے دار آخرت کی طرف جاتا ہے اسلامی شریعت نے اس کو اعزاز و اکرام کے ساتھ رخصت کرنے کا ایک خاص طریقہ مقرر کیا ہے، جو نہایت ہی پاکیزہ، انتہائی خدا پرستانہ اور نہایت ہمدردانہ اور شریفانہ طریقہ ہے۔ حکم ہے کہ پہلے میت کو ٹھیک اس طرح غسل دیا جائے جس طرح کوئی زندہ آدمی پاکی اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے نہاتا ہے۔ اس غسل میں پاکی اور صفائی کے علاوہ غسل کے آداب کا بھی پورا لحاظ رکھا جائے۔ غسل کے پانی میں وہ چیزیں شامل کی جائیں جو میل کچیل صاف کرنے کے لئے لوگ زندگی میں بھی نہانے میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ آخر میں کافور جیسی خوشبو بھی پانی میں شامل کی جائے تا کہ میت کا جسم پاک صاف ہونے کے علاوہ معطر بھی ہو جائے پھر اچھے صاف ستھرے کپڑوں میں دفنایا جائے، لیکن اس سلسلہ میں اسراف سے بھی کام نہ لیا جائے اس کے بعد جماعت کے ساتھ نماز جنازہ پڑھی جائے جس میں میت کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا اہتمام اور خلوص سے کی جائے۔ پھر رخصت کرنے کے لئے قبرستان تک جایا جائے، پھر اکرام و احترام کے ساتھ بظاہر قبر کے حوالے اور فی الحقیقت اللہ کی رحمت کے سپرد کر دیا جائے اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ ارشادات اور آپ ﷺ کی ہدایات ذیل میں پڑھئے۔ اس حدیث کی صحیح مسلم کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جن صاحبزادی کو غسل دینے کا اس حدیث میں ذکر ہے وہ آپ ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی زینب تھیں، جو ابو العاص بن الربیع کے نکاح میں تھیں، ان کی وفات ۸ھ کے اوائل میں ہوئی تھی، اور ام عطیہ انصاریہ ؓ جو اس حدیث کی راوی ہیں اور جو اس موقع پر غسل دینے والیوں میں تھیں ممتاز صحابیات میں سے ہیں، اس قسم کی خدمتوں میں یہ پیش پیش رہتی تھیں، خاص کر مرنے والی خواتین کو غسل دینا ان کو خوب آتا تھا۔ ابن سیرین تابعی جیسے جلیل القدر امام کا بیان ہے کہ میں نے غسل میت انہی سے سیکھا۔ اس حدیث میں بیری کے پتوں کے ساتھ ابالے ہوئے پانی سے غسل دینے کا ذکر ہے ایسا پانی جسم سے میل وغیرہ کو خوب صاف کرتا ہے۔ ہمارے زمانہ میں جس مقصد کے لئے نہانے میں طرح طرح کے صابون استعمال کئے جاتے ہیں اس زمانہ میں اس مقصد کے لئے بیری کے پتوں کے ساتھ جوش دیا ہوا پانی استعمال کیا جاتا تھا۔ مقصد صرف یہ ہے کہ میت کے جسم سے ہر قسم کے میل کچیل کی صفائی کا پورا اہتمام کیا جائے۔ اس لئے حکم فرمایا کہ غسل کم سے کم تین دفعہ دیا جائے اور اگر اس سے زیادہ مناسب سمجھا جائے تو چونکہ طاق عدد اللہ کو محبوب ہے، اس لئے اس کا لحاظ بہرحال رکھا جائے۔ یعنی تین دفعہ یا پانچ دفعہ اور اگر ضرورت محسوس ہو تو اس سے بھی زیادہ سات دفعہ غسل دیا جائے اور آخری دفعہ کافور بھی پانی میں ملا لیا جائے جو نہایت مہک دار اور دیرپا خوشبو ہے۔ یہ سب میت کا اعزاز و اکرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر صاحبزادی کے لئے جس اہتمام سے اپنا تہبند مبارک دیا (اور بعض روایات میں تصریح ہے کہ جب آپ ﷺ کو غسل مکمل ہو جانے کی اطلاع دی گئی اس وقت آپ نے اپنے جسم اقدس سے نکال کر وہ تہبند دیا) اور تاکید فرمائی کہ اس کو شعار (یعنی سب سے اندر کا لباس) بنا دو، اس سے علماء کرام نے سمجھا ہے کہ اللہ کے نیک اور مقبول بندوں کے لباس وغیرہ کا تبرک کے طور پر اس طرح کا استعمال درست ہے اور اس سے نفع کی امید ہے۔ ہاں ان چیزوں میں غلو اور ان کے بھروسہ پر عمل سے غافل ہو جانا یقیناً گمراہی ہے۔ اس روایت سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ ان صاحبزادی کو کیسے کپڑوں میں کفیایا گیا، لیکن حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں جوزقی کی تخریج سے حضرت ام عطیہ ؓ کی اس حدیث کے سلسلہ میں یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: فَكَفَّنَهَا فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ وَخَمَرْنَاهَا كَمَا يُخْمَرُ الْحَىُّ ہم نے ان صاحبزادی کو پانچ کپڑوں میں کفنایا اور خمار (اوڑھنی) بھی اڑھائی، جس طرح زندوں کو اڑھائی جاتی ہے۔ (اس بناء پر وعورتوں کے لئے کفن میں پانچ کپڑے ہی مسنون کہے گئے ہیں)۔
Top