Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (6412 - 6593)
Select Hadith
6412
6413
6414
6415
6416
6417
6418
6419
6420
6421
6422
6424
6425
6426
6427
6428
6429
6430
6431
6432
6433
6434
6435
6436
6437
6438
6439
6441
6442
6443
6444
6445
6446
6447
6448
6449
6450
6451
6452
6453
6454
6455
6456
6457
6458
6459
6460
6461
6462
6463
6464
6465
6466
6467
6468
6469
6470
6471
6472
6473
6474
6475
6476
6477
6478
6479
6480
6481
6482
6483
6484
6485
6486
6487
6488
6489
6490
6491
6492
6493
6494
6495
6496
6497
6498
6499
6500
6501
6502
6503
6504
6505
6506
6507
6508
6509
6510
6511
6512
6513
6514
6515
6516
6517
6518
6519
6520
6521
6522
6523
6524
6525
6526
6527
6528
6529
6530
6531
6532
6533
6534
6535
6536
6537
6538
6539
6541
6542
6543
6544
6545
6546
6547
6548
6549
6550
6551
6553
6554
6555
6557
6558
6559
6560
6561
6562
6563
6564
6565
6566
6567
6568
6569
6570
6571
6572
6573
6575
6576
6577
6578
6579
6580
6581
6582
6583
6585
6586
6587
6588
6589
6590
6591
6593
صحيح البخاری - روزے کا بیان - حدیث نمبر 5319
وعن سعد بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا هامة ولا عدوى ولا طيرة وإن تكن الطيرة في شيء ففي الدار والفرس والمرأة . رواه أبو داود .
بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے
اور حضرت سعد بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہ ہامہ کوئی چیز ہے نہ ایک سے دوسرے کو بیماری کا لگنا کوئی حقیقت رکھتا ہے اور نہ شگون بد میں کوئی حقیقت ہے، اگر کسی چیز میں شگون بد ہوتا تو گھر میں گھوڑے اور عورت میں ہوتا ہے۔ (ابوداؤد)
تشریح
طیرہ یعنی بدشگونی اور نحوست کے سلسلے میں مختلف احادیث منقول ہیں، جن احادیث سے طیرہ کے اثرات کی نفی اور اس کا اعتبار کرنے یا اس پر اعتقاد رکھنے کی نہی و ممانعت ثابت ہوتی ہے وہ زیادہ ہیں، بعض احادیث سے طیرہ کے اثرات کی نفی اور اس کا اعتبار کرنے یا اس پر اعتقاد رکھنے کی نہی و ممانعت ثابت ہوتی ہے وہ زیادہ ہیں، بعض احادیث سے عورت، گھوڑے اور گھر میں طیرہ کا ثبوت یقینی الفاظ کے ذریعہ مفہوم ہوتا ہے جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت ہے۔ انما الشوم فی ثلث الفرس ولمرأۃ والدار یعنی اس میں کوئی شک نہیں کہ تین چیزوں میں نحوست ہے، گھر، گھوڑے اور عورت میں ایک روایت میں وہ تین چیزیں زمین، خادم اور گھوڑا بیان کی گئی ہیں۔ بعض احادیث سے ان تین چیزوں میں طیرہ کا ثبوت الفاظ شرط کے ساتھ مفہوم ہوتا ہے جیسا کہ اوپر نقل کی گئی حدیث یا اسی طرح دوسری حدیث کے الفاظ ہیں کہ اگر بد شگونی اور نحوست کوئی چیز ہوتی تو ان چیزوں میں پائی جاتی، بعض احادیث سے دوسری تمام چیزوں کی طرح ان تین چیزوں میں بھی نحوست کے پائے جانے کا انکار مفہوم ہوتا ہے، جیسا کہ ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے جس کو انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے اور بعض احادیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ان چیزوں میں نحوست کے پائے جانے کا اعتقاد زمانہ جاہلیت کے بےسروپا اعتقادات و خیالات سے ہے۔ غرض کہ اس بارے میں مختلف مفہوم کی روایتیں منقول ہیں لہٰذا ان سب کے درمیان وجہ مطابقت اور ان سب کا حاصل مقصد یہ ہے کہ تطیر یعنی شگون بد لینا اور کسی چیز کو منحوس سمجھنا بالکل بےاصل بات ہے اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ کچھ چیزوں میں نحوست ہوتی ہے تو جو چیزیں ایسی ہیں جو اپنی بعض حیثیتوں اور مآل کار کے اعتبار سے اس قابل ہیں کہ ان میں نحوست کا ہونا گمان کیا جاسکتا ہے اور ان کو نحوست کا موقع ومحل قرار دیا سکتا ہے۔ یہ بات ایسی ہی ہے جیسا کہ اس روایت میں فرمایا گیا ہے۔ لوکان شی سابق القدر لسبقۃ العین یعنی اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جانے والی ہو تو وہ نظر بد ہوتی۔ قاضی نے بھی اسی طرح کی بات کہی ہے وہ کہتے ہیں کہ حدیث میں پہلے تو طیرہ کا انکار کرنا اور اس کے بعد یہ شرطیہ جملہ (کہ اگر کسی چیز میں شگون بد ہوتا تو گھر میں گھوڑے میں ایک عورت میں ہوتا) لانا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ تطیر یعنی بدشگونی کی نحوست کا انکار اس مفہوم میں ہے اگر نحوست کا کوئی وجود ثبوت ہوتا تو ان تین چیزوں میں ہوتا کیونکہ یہی تین چیزیں نحوست کا موقع و محل ہوسکتی ہیں، لیکن جب ان چیزوں میں بھی نحوست کا کوئی وجود نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نحوست سرے سے کوئی وجود نہیں رکھتی۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اگر ان چیزوں میں نحوست کا کوئی وجود مفہوم ہوتا ہے تو اس معنی میں کہ اگر عورت زبان دراز، بےحیاء اور بدکار ہو یا اس کی کوکھ سے بچہ جنم نہ لیتا ہو یا اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہو اور یا مکروہ صورت و بدشکل ہو تو اس اعتبار سے اس کو منحوس کہا جاتا ہے گھر میں نحوست کا ہونا اس معنی میں ہے کہ وہ گھر تنگ و تاریک ہو اس کا پڑوس برے ہمسایوں پر مشتمل ہو اور اس کی آب و ہوا ناموافق ہو، اسی طرح گھوڑے میں نحوست کا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ گھوڑا سرکش و شریر ہو، کھانے میں تو تیز ہو لیکن چلنے میں مٹھا ہو، خصوصیات کے اعتبار سے کم تر ہو لیکن قیمت کے اعتبار سے گراں ہو اور مالک کی ضرورت و مصالح کو پورا نہ کرتا ہو، گھوڑے ہی پر خادم کو قیاس کیا جاسکتا ہے، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ نحوست سے شرعی و طبعی کراہت و ناپسندیدگی مراد ہے اس اعتبار سے شوم و تطیر کی نفی تو عموم و حقیقت پر محمول ہوگی یعنی حقیقت تو یہی ہے کہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔ جس میں نحوست کا کوئی وجود ہو لیکن جن احادیث سے بعض چیزوں میں نحوست کا ہونا مفہوم ہوتا ہے ان میں نحوست سے مراد ان چیزوں کا طبعی طور پر یا کسی شرعی قباحت کی بنا پر ناپسندیدہ ہونا ہے۔
Top