صحیح مسلم - فتنوں کا بیان - حدیث نمبر 7096
حدیث نمبر: 5148
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَاشَةَ الْعُرْسِ فَسَأَلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ. وَعَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ.
اللہ تعالیٰ کا حکم کہ عورتوں کو ہنسی خوشی مہردو اور زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کتنا مہر جائز ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم کسی عورت کو ( مہر میں) بے انتہا مال دے دو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد اوتفرضوا لھن فریضۃ ( وجوب مہر پر) دلیل ہے، سہل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مہر ضرور دو) اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس ؓ نے کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے ایک خاتون سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر (سونے کے مہر پر) نکاح کیا۔ پھر نبی کریم شادی کی خوشی ان میں دیکھی تو ان سے پوچھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر نکاح کیا ہے اور قتادہ ؓ نے انس ؓ سے یہ روایت اس طرح نقل کی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے ایک عورت سے۔ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر نکاح کیا تھا۔
Top