سنن ابنِ ماجہ - پاکی کا بیان - حدیث نمبر 355
حدیث نمبر: 355
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ سورة التوبة آية 108، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطُّهُورِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا طُهُورُكُمْ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَهُوَ ذَاكَ فَعَلَيْكُمُوهُ.
پانی سے استنجا کرنا
ابوایوب انصاری، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے (سورة التوبة: 108) ، اتری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے، تو وہ تمہاری کیسی طہارت ہے ، ان لوگوں نے کہا: ہماری طہارت یہ ہے کہ ہم لوگ نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، اور جنابت ہونے سے غسل کرتے ہیں، اور پانی سے استنجاء کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کا) یہی سبب ہے، لہٰذا تم لوگ اس طہارت پر کاربند رہو ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٦، ٢٣٣٧، ٣٤٦٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦) (صحیح) (یہ سند ضعیف ہے، عتبہ بن أبی حکیم ضعیف راوی ہیں، اور طلحہ نے ابو ایوب انصاری ؓ سے نہیں سنا، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٣٤ )
وضاحت: ١ ؎: یعنی آیت کا معنی یہ ہے کہ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ جل جلالہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے، اور ضمیر اس آیت میں مسجد قبا، یا مسجد نبوی کی طرف لوٹ رہی ہے، شاید پانی سے استنجا کرنے سے ہی ان کی تعریف کی گئی ہے، ورنہ غسل جنابت اور وضو مہاجرین بھی کرتے تھے۔
Abu Sufyan (RA) said: "Abu Ayyub Al-Ansari , Jabir bin Abdullah, and Anas bin Malik (RA) told me that when this Verse: "In it (the Masjid) are men who love to clean and to purify themselves. And Allah loves those who make themselves clean and pure." was revealed, the Messenger of Allah ﷺ said: O Ansar! Allah has praised you for your cleanliness. What is the nature of your cleanliness? They said: We perform ablution for prayer and we take bath to cleanse ourselves of impurity due to sexual activity, and we clean ourselves with water (after urinating). He said: This is what it is. So adhere to it.
Top